تل ابیب کے لیے امریکی امداد اسرائیل کی ’حوصلہ افزائی‘ کے سوا کچھ نہیں: حماس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

امریکی صدر جو بائیڈن کی طرف سے فلسطینی تنظیم حماس کے حملوں کے بعد اسرائیل کو اضافی مدد فراہم کرنے کے فیصلے پر حماس نے اپنے رد عمل کا اظہار کیا ہے۔

حماس نے امریکا کی اسرائیل کے لیے امداد کو صہیونی فوج کی حوصلہ افزائی کی کوشش قرار دیا۔

حماس ترجمان حازم قاسم نے کہا کہ امریکی امداد کا اعلان فلسطینیوں کے خلاف "جارحیت میں حقیقی شرکت" کے مترادف ہے۔

حوصلے کی بحالی!

انہوں نے اتوار کے روز ایک بیان میں مزید کہا کہ یہ امداد اسرائیلی قابض فوج کے حوصلے بحال کرنے کی امریکی کوشش ہے جو "طوفان الاقصیٰ " آپریشن کے بعد شکست خوردہ ہوچکی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ امداد فلسطینی عوام یا مزاحمتی قوتوں کو خوفزدہ نہیں کرے گی۔ انہوں نے دشمن کے خلاف مزاحمت جاری رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔

قبل ازیں امریکی سینٹرل کمانڈ کی جانب سے اتوار کے روز ایک بیان سامنے آیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ امریکا نے طیارہ بردار بحری بیڑے کے گروپ "جیرالڈ فورڈ" کو مشرقی بحیرہ روم میں منتقل کرنا شروع کر دیا ہے تاکہ غزہ کی پٹی اور اسرائیلی فوج کے درمیان ہونے والی جنگ میں اسرائیلی فوج کی مدد کی جا سکے۔

سینٹرل کمانڈ نے ایک بیان میں کہا کہ اس نے خطے میں "F-35، F-15، F-16 اور A-10 لڑاکا طیاروں کے سکواڈرن کی تعیناتی کے لیے بھی اقدامات کیے ہیں۔"

انہوں نے کہا کہ اگر ضرورت پڑنے کی صورت میں حالات کو قابو میں رکھنے کے لیے ڈیٹرنس کی صورتحال کو بڑھانے کے لیے امریکا پوری دنیا میں تیار افواج رکھتا ہے۔

امریکا دنیا کا سب سے بڑا طیارہ بردار بحری جہاز مشرقی بحیرہ روم میں کیوں بھیج رہا ہے

ایک اسرائیلی فوجی اہلکار اور ایک امریکی فوجی اہلکار نے اتوار کو CNN کو بتایا کہ اسرائیل نے آئرن ڈوم سسٹم کے لیے امریکا سے اضافی سمارٹ بموں اور انٹرسیپٹر میزائلوں کی درخواست کی ہے۔

اسرائیلی فوجی اہلکار نے کہا کہ حماس کے خلاف آپریشن میں پیش رفت کی بنیاد پر فوج واشنگٹن سے مزید صلاحیتوں اور ہتھیاروں کی درخواست کر سکتی ہے۔

حالتِ جنگ کا اعلان

امریکی صدر نے اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کو مطلع کیا تھا کہ حماس کے حملوں کے بعد اضافی امریکی فوجی امداد اسرائیل کے لیے جا رہی ہے۔

کل اتوار کو اسرائیلی حکومت سرکاری طور پر حالت جنگ میں داخل ہونے کا اعلان کیا۔

6 اکتوبر 1973 کی جنگ کے بعد یہ پہلا موقع ہے جب اسرائیل نے اس "ریاستی سطح پرحالت جنگ" کا اعلان کیا ہے۔

یہ اعلان حماس کی جانب سے گذشتہ ہفتے کو اچانک کیے گئے حملے کے بعد سامنے آیا ہے۔ فلسطینی مزاحمت کاروں کے اس حملے میں اب تک 700 سے زائد تک پہنچنے کے بعد سامنے آئی ہے جب کہ قیدیوں کی تعداد 100 سے زائد بتائی گئی ہے۔

دوسری طرف اسرائیلی فوج کی فضائی کارروائیوں میں 370 فلسطینی اور اور دو ہزار سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں