جدید ترین آلات سے لیس آہنی اسرائیلی باڑفلسطینیوں کے سامنےریت کی دیوارکیوں ثابت ہوئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

اسرائیل نے غزہ کی پٹی کی ناکہ بندی کے لیے دیگر حربوں کے ساتھ 65 کلو میٹر طویل علاقے میں جدید آلات سے لیس آہنی اور کنکریٹ کی باڑ بھی تعمیر کررکھی ہے مگر گذشتہ ہفتے کے روز یہ باڑ فلسطینی مزاحمت کاروں کے سامنے ریت کی دیوار ثابت ہوئی۔

غزہ کے ساتھ سرحدی باڑ اب بری طرح تک ٹوٹ پھوٹ کا شکارہے اور مکمل کنٹرول سے باہر ہے۔ غزہ کی ناکہ بندی کے لیے پندرہ سال قبل بنائی گئی اسرائیلی باڑ کو تین روز قبل حماس کےجنگجوؤں نے جگہ جگہ سے توڑ کر رکھ دیا تھا۔

حماس کے جنگجو اس باڑ میں اس کی جدید ترین حفاظتی خصوصیات کے باوجود کیسے داخل ہوئے؟یہ سوال اس لیے اہم ہے کیونکہ جدید ترین مواصلاتی آلات سے لیس یہ اسمارٹ باڑ اپنے قریب رینگنے والی چیونٹیوں کا بھی پتا لگا لیتی تھی۔ اس دیوار کو ایسے انداز میں ڈیزائن کیا گیا تھا تاکہ اس کے ساتھ چھیڑ چھاڑ پر الارم کے سینسر خود بہ خود بج اٹھیں اور دیوار کو نقصان پہنچانے کی کسی بھی کوشش کو ناکام بنایا جا سکے.

فلسطینیوں نے سرنگوں کا استعمال نہیں کیا

اب تک دستیاب معلومات سے پتہ چلتا ہے کہ حماس کے جنگجوؤں نے آپریشن "طوفان الاقصیٰ " میں سرنگوں کا استعمال نہیں کیا بلکہ زمینی اور فضائی راستے سے اسرائیلی بستیوں کی گہرائیوں تک پہنچنے میں کامیاب رہے۔ ماہرین اسے اسرائیلی فوج اور انٹیلی جنس کی بدترین ناکامی قرار دیتے ہیں۔

حماس کے جنگجو جو گاڑیوں، کشتیوں اور خودکار گلائیڈرز میں پہنچے تھے نے اسرائیل کی جانب سے پٹی کے گرد تعمیر کردہ سرحدی باڑ کو بلڈوز کر دیا اور جاتے ہوئے فوجی مقامات اور شہریوں پر حملہ کیا۔

العربیہ انفارمیشن کے مطابق فلسطینی مزاحمت کاروں نے متعدد سینسر نیٹ ورکس کو غیر فعال کرنے، اس کے قریب واقع اسرائیلی فورسز کے مراکز اور قیادت کے درمیان رابطے میں خلل ڈالنے کے بعد اس کے کچھ حصوں کو کھول دیا۔

ایک باخبر ذریعے نے بتایا کہ ایک کمانڈو یونٹ نے جنوبی غزہ میں اسرائیلی فوج کے ہیڈکوارٹر پر حملہ کیا، اس کے مواصلاتی نظام کو تباہ کردیا۔ اس طرح وہ ایک دوسرے سےرابطے سے محروم ہوگئے۔

اس دوران گلائیڈرز اسمارٹ الیکٹرانک دیوار کے اوپر سے اڑ کرپار چلے گئے۔

دھماکہ خیز مواد اور مواصلاتی جام

جنگجوؤں نے باڑ میں گھسنے کے لیے دھماکہ خیز مواد کا بھی استعمال کیا، پھر موٹر سائیکلوں کے ذریعے تیزی سے سرحد عبور کی۔

باڑکی گہرائی 40 میٹر

قابل ذکر ہے کہ اسرائیلی رکاوٹ یا باڑ 65 کلومیٹر لمبی ہے۔ اس میں پانچ سکیورٹی خصوصیات ہیں۔ یہ 30-40 میٹر گہری ہے جو ایک زیر زمین رکاوٹ ہے۔اس میں گھسنے یا اس کے نیچے کھودائی کی کوششوں کا پتہ لگانے کے لیے سینسر ہوتے ہیں۔

زمین سے تقریباً چھ میٹر کی بلندی کے علاوہ اس میں سمندر میں دراندازی کا پتہ لگانے والے آلات ہیں اور اس میں سمارٹ ہتھیار ہیں جنہیں دور سے کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔ متعدد کیمرے ریڈار کے علاوہ باڑ کو ایک کمانڈ اینڈ کنٹرول روم کنٹرول کرتا ہے۔

باڑ کی تیاری پر دن رات تقریباً 4 سال تک کام جاری رہا جس میں 1,200 کارکنوں کی شرکت کی۔ اس دوران 220,000 کنکریٹ کے ٹرکوں اور 140,000 ٹن لوہے کا استعمال کیا گیا۔

دیوار کا مقصد فلسطینی مزاحمتی سرنگوں سے قبضے اور اس کی افواج کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔

"فعال میدان جنگ"

یہ بات قابل ذکر ہے کہ اسرائیلی فوج کا خیال ہے کہ حماس کے جنگجوؤں کی بڑی تعداد اب بھی اسرائیل میں داخل ہو رہی ہے۔

عبرانی اخبار’ہارٹز‘ اخبار نے رپورٹ کیا کہ غزہ کی سرحد کے ساتھ کچھ اسرائیلی قصبے "اب بھی ایک فعال میدان جنگ ہیں۔"

اخبار کے مطابق فوج سرحد کی باڑ کے ساتھ اور دوسرے مقامات پر سروے کر رہی ہے جہاں سے حماس کے جنگجو اسرائیل میں داخل ہوتے ہیں۔

فلسطینی دھڑوں نے گذشتہ ہفتے کی صبح غزہ کی پٹی کے ارد گرد کے قصبوں اور رہائشی کمیونٹیز پر غزہ سے بڑے پیمانے پر اچانک حملہ کیا جس میں 700 سے زائد اسرائیلی مارے گئے۔ دوسری طرف اسرائیلی فوج کی فضائی کارروائیوں میں اب تک 490 سے زائد فلسطینی مارے گئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں