نیتن یاہو نے سابق کمانڈر کو قیدیوں اور لاپتہ افراد کے معاملہ پر رابطہ کار مقرر کردیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیلی وزیر اعظم کے دفتر نے اتوار کو اعلان کیا کہ وزیر اعظم نیتن یاہو نے سابق فوجی کمانڈر گال ہرش کو یرغمالیوں اور لاپتہ افراد کے امور کا رابطہ کار مقرر کر دیا ہے۔ اسرائیلی فوج کے ایک سینئر افسر گال ہرش نے 2006 کی دوسری لبنان جنگ کے دوران اپنے طرز عمل پر ہونے والی تحقیقات کی وجہ سے فوج سے استعفیٰ دے دیا تھا۔

گال ہرش اپنے زیرکمان علاقے میں جنگ کے موقع پر دو اسرائیلی فوجیوں کے اغوا کی وجہ سے ا ور جنگ کے دوران اپنے قائدانہ انداز کی وجہ سے بھی شدید تنقید کا نشانہ بنے تھے۔

2015 میں انہیں اس وقت کے پولیس کے وزیر گیلاد اردان نے پولیس چیف کے طور پر کام کرنے کے لیے نامزد کیا تھا۔ لیکن غیر قانونی کاروباری لین دین کے شبہات کی وجہ سے ان کی نامزدگی کو مسترد کر دیا گیا تھا۔

2019 میں گال ہرش نے اپنے ہی پلیٹ فارم پر کنیسٹ کے لیے انتخاب لڑنے کی کوشش کی اور صرف 3,400 ووٹوں سے جیت گئے۔ بعد میں ہرش نے لیکود پارٹی میں شمولیت اختیار کرلی ۔ اکتوبر میں ہرش پر تل ابیب کی مجسٹریٹ عدالت نے جارجیا میں ایک دفاعی کمپنی میں اپنے آپریشنز کے منافع کو کم رپورٹ کرنے کے الزام میں فرد جرم عائد کی تھی۔

ہرش پر تین دیگر کاروباری شراکت داروں کے ساتھ کمپنی ڈیفنس شیلڈ جارجیا کو ہتھیاروں کی فروخت اور 2007 اور 2009 کے درمیان دیگر ملکوں کو خدمات فراہم کرنے کا الزام عائد کیا گیا۔ ہرش کے وکلا نے کہا تھا کہ ان کی ٹیکس رپورٹس قانونی اور مکمل تھیں۔

سفارتی ذرائع نے آج انکشاف کیا ہے کہ اسرائیل ان اسرائیلیوں کے معاملہ کے حوالے سے ثالثوں کے ذریعے بات چیت کا راستہ کھولنے کی کوشش کر رہا ہے جنہیں غزہ کی پٹی میں گزشتہ روز صبح کے وقت شروع ہونے والے اچانک حملے کے بعد فلسطینیوں نے حراست میں لیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں