پکڑے گئے اسرائیلیوں کو صرف اپنے قیدیوں کے بدلے میں چھوڑیں گے:اسلامی جہاد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

فلسطینی تنظیم اسلامی جہاد موومنٹ نے کہا ہے کہ اس نے اسرائیل کے خلاف حالیہ لڑائی میں دشمن کے 30 سے زائد اہلکاروں کو جنگی قیدی بنایا ہے۔ انہیں مفت میں رہا نہیں کیا جائے گا بلکہ انہیں اسرائیلی جیلوں میں قید فلسطینیوں کی رہائی کے بدلےچھوڑا جائے گا۔

خیال رہے کہ گذشتہ ہفتے سے جاری لڑائی میں فلسطینی تنظیموں اسلامی جہاد اور حماس نے سیکڑوں اسرائیلیوں کو قیدی بنانے کا دعویٰ کیا ہے تاہم آزاد ذرائع سے فلسطینی دھڑوں کی تحویل میں جانے والے اسرائیلیوں کی درست تعداد سامنے نہیں آئی ہے۔ اسرائیلی حکومت کے اس اعلان کے مطابق 100 سے زائد افراد اس وقت یرغمال ہیں جب کہ اسلامی جہاد نے اپنے طور پر 30 سے زائد اسرائیلیوں کو پکڑنے کا دعویٰ کیا ہے۔

اسلامی جہاد کے پاس 30سے زاید اسرائیلی قید

اسلامی جہاد کے سیکرٹری جنرل زیاد النخالہ نے اتوار کو کہا کہ ان کی جماعت ان 30 سے زائد اسرائیلیوں کو حراست میں لے رہی ہے جنہیں ہفتے کے روز غزہ کی پٹی سے حماس کے اسرائیل پر حملوں کے بعد اغوا کیا گیا تھا۔

انہوں نے اسرائیلی جیلوں میں قید ہزاروں فلسطینی قیدیوں کے بدلے میں ہی ان قیدیوں کو چھوڑا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیلی قیدی اس وقت تک اپنے ملک واپس نہیں جائیں گے جب تک ہمارے قیدیوں کو آزاد نہیں کیا جاتا"۔

یہ اعلان مصر کی جانب سے دونوں فریقوں کے درمیان ثالثی کی تازہ کوششوں کے بعد سامنے آیا ہے۔

ایک باخبر سیاسی ذریعے نے اطلاع دی ہے کہ قاہرہ ان اسرائیلیوں کی رہائی کے لیے حماس کے ساتھ بات چیت کر رہا ہے، جنہیں القسام بریگیڈز اور دوسرے عسکریت پسندوں نے طوفان الاقصیٰ آپریشن کے دوران پکڑ لیا تھا۔

اسرائیل کے عبرانی ٹی وی چینل 12 کی رپورٹ کے مطابق مصر کی بات چیت اس وقت بوڑھوں اور بچوں کے بارے میں ہے۔

مصری حکام کی جانب سے اس تناظر میں ابھی تک کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔ تاہم اسرائیل نے کہا تھا کہ وہ فلسطینی عسکریت پسندوں کے قبضے میں جانے والے اسرائیلیوں کی رہائی کے لیے کام کریں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں