یوٹیوب اسرائیل کے جنگی اشتہارات کا ذریعہ بن گیا!

سوشل میڈیا صارفین کو یو ٹیوب کے جنگی اشتہارات کیلیے استعمال پر حیرانی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سوشل میڈیا کا ایک اہم نیٹ ورک 'یو ٹیوب' اسرائیل کے جنگی اشتہاروں سے متعلق اہم ذریعہ بن گیا ہے۔ اسرائیل نے فلسطینیوں کے خلاف اپنی جنگ میں یوٹیوب کو اشتہاربازی کے ایک ذریعے کے طور پر اپنے شہریوں سے رابطے کے لیے استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔

اسرائیلی حکومت کے اشتہارات میں اسرائیلیوں عوام اور ناجائز یہودی بستیوں کے آباد کاروں کو یقین دہانیاں کرائی جانے کی کوشش کی جارہی ہے کہ حکومت حماس کے دہشت گردانہ حملوں سے اپنے شہریوں کو محفوظ رکھنے کی کوشش کر رہی ہے۔

اسرائیلی سوشل میڈیا صارفین ان اسرائیلی اشتہارات کو فوری طور پر ٹویئٹر کے ذریعے شئیر کر دیتے ہیں۔ تاہم بعض سوشل میڈیا صارفین اسرائیل کی اس جنگی ضرورت کے تحت سرگرمی کو سوشل میڈیا کے ذریعے جنگی ' پراپیگنڈہ ' کا نام دے رہے ہیں۔

بہت سارے صارفین کو اس امر پر حیرت ہے کہ یوٹیوب ان اسرائیلی اشتہارات کو اس قدر جلدی سکرین پر دکھانے کے لیے کیسے منظوری دے دیتا یے۔

یو ٹیوب پر ایک اشتہار میں بتایا گیا تھا 'ہم پر حملہ ہو گیا ہے۔' یوٹیوب نامی سوشل میڈیا آوٹ لیٹ فوری طور پر اسے سامنے لے آتا ہے۔

ایک اور یوٹیوب صارف کا کہنا تھا ' میں اسے بھروسے کے بغیر والی چیز سمجھتا ہوں یہ ٹی وی کمرشلز کی صورت میں ایک فعال میڈیا مہم ہے۔ جس میں غزہ کو ایک طرف کر دیا گا ہے۔ مجھے لگا جیسے ہم یو ٹیوب پر اشتہاروں کے ذریعے دیکھ رہے ہیں کہ کونسا قتل درست اور کونسا قتل غلط ہے۔
واضح رہے اسرائیل کی بمباری اتوار اور پیر کے روز بھی غزہ پر جاری رہی ۔ جبکہ حماس نامی فلسطینی مزاحمتی گروپ نے اب تک کی اطلاعات کے مطابق 700 سے زائد اسرائیلیوں کوہلاک کرنے کے علاوہ درجنوں اسرائیلیوں کو قیدی بنا لیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں