اسرائیل کی غزہ پر دو اطراف سے بمباری،میڈیا دفاترپر مشتمل ٹاور پرحملہ متعدد صحافی ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

فلسطینی تنظیموں کی طرف سے اسرائیل کے خلاف شروع کیےگئے ’طوفان الاقصیٰ‘ آپریشن کے آج چوتھے روزکے آغاز پر اسرائیل نے غزہ پر فضائی اور سمندری اطراف سے شدید بمباری کی ہے۔

منگل کو العربیہ اور الحدث کے ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ غزہ کے علاقوں پر صبح سے اسرائیلی بمباری جاری ہے۔ مرکزاطلاعات فلسطین نے منگل کی صبح غزہ پر نئے اور پرتشدد اسرائیلی حملوں کی اطلاع دی ہے۔ اطلاعات کے مطابق اسرائیلی بحری کشتیوں نے بھی غزہ شہر کے ساحل پر تازہ بمباری کی ہے۔

ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ مغربی غزہ میں ایک رہائشی عمارت پر اسرائیلی بمباری میں متعدد صحافی ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ فلسطینی میڈیا نے بتایا ہے کہ مغربی غزہ میں رہائشی عمارت پر اسرائیلی بمباری میں 3 صحافی ہلاک ہو گئے ہیں۔

فلسطینی ٹیلی ویژن نے اس سے قبل اطلاع دی تھی کہ ایک اسرائیلی حملے نے برج حجی کو نشانہ بنایا جس کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہاں پر مختلف میڈیا اداروں کے دفاتر موجود ہیں۔

غزہ کی پٹی پر اسرائیلی بمباری کل رات بھر جاری رہی۔ فلسطینی میڈیا کے مطابق الگ الگ حملوں میں متعدد افراد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔

اسرائیلی فوج نے پیر کو کہا تھا کہ اس کی فضائیہ غزہ کی پٹی میں حماس تحریک کے خلاف "اب تک کا سب سے بڑا فضائی حملہ" کر رہی ہے۔ یہ حملہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب دوسری طرف حماس کے مسلح افراد نے غزہ کی پٹی کے آس پاس کی متعدد بستیوں پر حملہ شروع کیا ہے۔

قبل ازیں العربیہ اور الحدث کے نامہ نگار نے اطلاع دی تھی کہ جنوبی اسرائیل میں سعد کے علاقے کے قریب اسرائیلی قابض فوج کے ساتھ فلسطینیوں کی جھڑپیں ہوئیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیلی بحریہ نے وسطی غزہ اور خان یونس کے ساحلوں پر درجنوں گولے داغے۔

انہوں نے اس وقت غزہ کی پٹی پر اسرائیلی بمباری کی تعداد میں اضافے کی بھی تصدیق کی جس کی وجہ سے پٹی کے شمال میں جبالیہ میں ایک مکان پر اسرائیلی حملے میں دو فلسطینی ہلاک اور دیگر زخمی ہوئے۔

اسرائیلی فوج نے اعلان کیا ہے کہ حماس نے گذشتہ ہفتے کے روز ’طوفان الاقصیٰ‘ حملے کے آغاز سے لے کر اب تک غزہ سے اسرائیل پر 4,500 راکٹ فائر کیے ہیں۔

غزہ میں فلسطینی دھڑوں نے گذشتہ ہفتے کی صبح پٹی کے اطراف کے قصبوں اور رہائشی کمیونٹیز پر اچانک حملے شروع کیے، جس کے نتیجے میں اب تک 1000 سے زیادہ اسرائیلی ہلاک ہو چکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں