اسرائیل کے لیے پروازیں معطل،"العال"بیرون ملک سے ریزرو فوجیوں کو واپس لانے میں سرگرم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

فلسطینی مزاحمتی دھڑوں اور اسرائیل کے درمیان جنگ چھڑنے کے بعد بڑی بین الاقوامی فضائی کمپنیوں نے تل ابیب کے لیےاپنی پروازیں معطل یا کم کر دی ہیں۔ جب کہ روس نے اسرائیل کے لیے رات کی پروازوں پر پابندی عائد کر دی ہے۔

گذشتہ ہفتے کے روز حماس کے کارکنوں کے اچانک حملے اور تنازع میں اضافے کے خطرے کے بعد اسرائیل کے لیے غیرملکی پروازیں معطل ہیں۔

فلائٹ ریڈار 24 فلائٹ ٹریکنگ ویب سائٹ نے اطلاع دی ہے کہ اتوار کو طے شدہ تل ابیب کی نصف پروازیں منسوخ کر دی گئی تھیں۔ اسرائیل میں کل سوموار کی شام صرف ایک تہائی پروازیں چل رہی تھیں۔

فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن کی جانب سے ایئر لائنز کو محتاط رہنے کی تاکید کے بعد دو امریکی فضائی کمپنیوں یونائیٹڈ ایئرلائنز اور امریکن ایئرلائنز نے اسرائیل کے لیے اپنی براہ راست پروازیں معطل کر دیں۔ ڈیلٹا ایئر لائنز نے کل پیر کو کہا کہ وہ اس مہینے کے آخر تک اسرائیل جانے اور جانے والی اپنی پروازیں منسوخ کر دے گی۔

کئی یورپی ایئر لائنز نے بھی اپنی پروازیں منسوخ کر دی ہیں۔

اسرائیلی ایئر لائن العال نہ صرف پروازیں جاری رکھے ہوئے ہے بلکہ اس نے اسرائیل کی تاریخ میں سب سے بڑی فضائی سروس بننے کی کوشش شروع کردی ہے۔ العال بیرون ملک موجود اسرائیلی ریزرو فوجیوں کو واپس لانے کی کوشش کررہی ہے۔

حماس کے جنگجوؤں نے ہفتے کے روز ہونے والے حملوں میں کم از کم 1,000 افراد کو ہلاک اور درجنوں یرغمالیوں کو اغوا کیاہے۔ کئی دہائیوں کے بعد یہ اسرائیل پر تباہ کن فلسطینی حملہ ہے۔

اسرائیل کے سیاحتی شعبے کو جو ساحل سمندر پر جانے والوں، تل ابیب میں پارٹیوں اور آثار قدیمہ کے مقامات کے تاریخی دوروں کے ذریعے چلایا جاتا ہے پروازوں کی منسوخی میں اضافے کے باعث بہت زیادہ متاثر ہونے کی توقع ہے۔ آرگنائزیشن فار اکنامک کوآپریشن اینڈ ڈیولپمنٹ کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ سیاحت کل روزگار کا 3.6 فیصد ہے۔

امریکی کروز کمپنیوں رائل کیریبین اور کارنیول نے کہا کہ انہوں نے اسرائیل میں اپنے کروز سفر کے پروگراموں کو "تبدیل" کردیا ہے۔

ریگولیٹری اداروں، بہ شمول یو ایس فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن، یورپی یونین ایوی ایشن سیفٹی ایجنسی اور اسرائیل ایوی ایشن اتھارٹی نے ایئر لائنز پر زور دیا کہ وہ خطے کی فضائی حدود میں احتیاط برتیں لیکن پروازوں کی معطلی سے گریز کریں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں