فلسطین اسرائیل تنازع

اسکول، مساجد اور ہسپتال بھی غیر محفوظ، جنگ زدہ غزہ کے باشندے کہاں جائیں؟

اسرائیلی فوج کی غزہ میں اونروا کے اسکول پر شدید بمباری، بے گھر افراد کھلے آسمان تلے رہنے پرمجبور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

غزہ کے باشندے مسلسل اسرائیلی بمباری سے بچنے کے لیے کہاں جائیں؟ یہ وہ سوال ہے جو اقوام متحدہ کے اسکول پر بمباری کے بعد اکثر پوچھا جا رہا ہے کیونکہ گھروں پر بمباری کے بعد اقوام متحدہ کی ریلیف ایجنسی کے اسکول بے گھر ہونےوالوں کا عارضہ ٹھکانہ ہیں مگراب وہ بھی غیر محفوظ ہیں۔

فلسطینی اب غزہ میں اسرائیلی بمباری سے محفوظ نہیں رہے، اس لیے وہ انفرادی اور اجتماعی طور پر اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی (UNRWA) کے اسکولوں میں پناہ لینے پر مجبور ہیں لیکن وہ اسکول بھی اسرائیلی بمباری سے محفوظ نہیں رہے۔

آپریشن کے تیسرے دن اسرائیل نے غزہ کی پٹی میں سیکڑوں اہداف کو نشانہ بنایا، جن میں سے کچھ فلسطینیوں نے تصدیق کی ہے کہ وہ شہری اہداف تھے۔ ان میں مساجد، پناہ گزین کیمپ اور اسکول شامل ہیں۔ ان اہداف میں سے ایک اقوام متحدہ کا اسکول تھا جس میں بمباری کے بعد پناہ لینے والے فلسطینی پناہ لیے ہوئے تھے۔

’اونروا‘ نے بتایا کہ اس نے غزہ کی پٹی کے مختلف محلوں میں بے گھر لوگوں کے لیے 71 پناہ گاہیں کھولی ہیں، جن میں تقریباً 80,000 بے گھر افراد کو رکھا گیا ہے۔بمباری کے دوران یہ تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔

اونروا کے مطابق اس کی ٹیمیں خاندانوں کو پناہ گاہ اور صاف پانی فراہم کر رہی ہیں۔ خاندانوں تک پہنچانے کے لیے سامان تیار کرنے کے لیے کام کر رہی ہیں جس میں خوراک اور حفظان صحت کا سامان شامل ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں