فلسطین اسرائیل تنازع

نفیر عام کا اعلان، حماس ’’جمعہ طوفان الاقصیٰ‘‘ منانے کے لیے بھی سرگرم

غزہ کے علاقوں پر اسرائیلی بمباری جاری، غزہ کے قریب 20 مقامات پر اسرائیلی ٹینک لگا دئیے گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ چوتھے روز بھی جاری ہے۔ منگل 10 اکتوبر کو حماس نے ’’نفیر عام‘‘ کا اعلان کردیا۔ حماس نے اگلے جمعہ کے دن کو’’ جمعہ طوفان الاقصی‘‘ کے نام سے منانے کا بھی اعلان کردیا۔ نفیر عام وہ حالت ہے جس میں استعداد رکھنے والے ہر شہری کی جنگ میں شمولیت مطلوب ہوتی ہے۔

حماس نے اسرائیلی فوج کا مقابلہ کرنے کے لیے حمایت اور مدد کو متحرک کرنے کے لیے اگلے جمعے کو "جمعہ طوفان الاقصیٰ‘‘ کا اعلان کردیا۔ اس جمعہ کو فلسطینی عوام اور ان کی مزاحمت کے ساتھ اظہار یکجہتی کی جائے گی۔

اسرائیل کے خلاف حماس کی سربراہی میں "طوفان الاقصی " آپریشن منگل کو چوتھے روز میں داخل ہو گیا۔ غزہ کی پٹی پر اسرائیلی بمباری کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ ’’ العربیہ‘‘ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ غزہ کے علاقوں پر اسرائیلی بمباری کا سلسلہ صبح سے جاری ہے۔ غزہ کے قریب کم از کم 20 مقامات پر اسرائیلی ٹینکوں کی موجودگی کی تصاویر بھی جاری کی گئی ہیں۔ اسرائیلی فوج نے اعلان کیا ہے کہ اس نے کسی حد تک غزہ کی سرحد کا کنٹرول دوبارہ سنبھال لیا ہے۔

دریں اثنا فلسطینی وزارت صحت نے اعلان کیا کہ اسرائیلی حملوں میں ہلاکتوں کی تعداد 704 تک پہنچ گئی ہے۔ جن میں غزہ میں جاں بحق ہونے والے 687 افراد بھی شامل ہیں۔ منگل کو علی الصبح شہر وسطی غزہ کے علاقوں پر بمباری کی گئی۔ پیر کو اسرائیلی وزیراعظم نے کہا تھا کہ حماس سے ایسا بدلہ لیا جائے گا جس کا اثر نسلوں تک برقرار رہے گا۔

لڑائی میں اب تک دونوں اطراف سے 1600 افراد کی موت ہو چکی ہے۔ اسرائیل نے کئی دہائیوں میں پہلی مرتبہ اپنے شہروں کی گلیوں میں بندوق کی لڑائی دیکھی ہے۔ اسرائیلی فوج کی بمباری سے غزہ کے پورے محلے ملبے کا ڈھیڑ بن گئے ہیں۔

چار روز سے جاری اس لڑائی میں حماس اور دیگر فلسطینی گروپوں نے 150 سے زیادہ اسرائیلی فوجیوں کو یرغمال بھی بنا لیا ہے۔ اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ اس نے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران غزہ کی سرحد پر دوبارہ کنٹرول حاصل کرلیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں