ہم نے اپنے مقاصد حاصل کر لیے، طویل جنگ کے لیے بھی تیار ہیں: حماس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

فلسطینی تنظیم اسلامی تحریک مزاحمت [حماس] نے کہا ہے کہ اس نے اسرائیل کے خلاف تازہ آپریشن میں اپنے مقاصد حاصل کر لیے ہیں، تاہم حماس کا کہنا ہے کہ اگر جنگ طول پکڑتی ہے تو وہ اس کے لیے بھی تیار ہیں۔

ممکنہ جنگ بندی؟

حماس کے ایک سینیر عہدیدار نے کہا کہ حماس اپنے مقاصد حاصل کرنے کے بعد اسرائیل کے ساتھ ممکنہ جنگ بندی کے بارے میں بات چیت کے لیے تیار ہے۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا حماس ممکنہ جنگ بندی پر بات کرنے کے لیے تیار ہے تو حماس کے سیاسی بیورو کے رکن موسیٰ ابو مرزوق نے ایک ٹیلی فون انٹرویو میں کہاکہ "ہم یقینی طور پر اس قسم کے کسی بھی معاملے کے لیے تیار ہیں۔ ہم تمام سیاسی مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔ "

یہ بیان مسلسل بمباری اور جھڑپوں کے بعد سامنے آیا ہے۔ دوسری طرف اسرائیل نے غزہ کی پٹی کا سخت محاصرہ کر رکھا ہے۔ پانی اور بجلی منقطع، خوراک اور گیس کا ذخیرہ ختم ہو چکا ہے۔

اسرائیلی فورسز نے غزہ کی پٹی کے قریب رہائشی آبادیوں پر بھی دوبارہ کنٹرول نافذ کر دیا جن پر حماس نے اپنے حملے میں کنٹرول قائم کر لیا کیا تھا۔

"طوفان اقصیٰ"

قابل ذکر ہے کہ غزہ میں فلسطینی مزاحمت کاروں نے گذشتہ ہفتے کی صبح غزہ کی پٹی کے گرد ونواح میں واقع قصبوں اور رہائشی آبادیوں پر اچانک حملے شروع کر دیے تھے، جس کے نتیجے میں اب تک ایک ہزار سے زائد اسرائیلی ہلاک ہو چکے ہیں۔ فلسطینیوں نے اس کارروائی کو ’طوفان الاقصیٰ‘ کا نام دیا ہے۔

فلسطینی وزارت صحت کے مطابق اسرائیل نے دھڑوں کے حملے کے جواب میں اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں غزہ اور مغربی کنارے میں 500 سے زائد فلسطینی شہید ہوئے ہیں۔

اقوام متحدہ نے پیر کو یہ بھی اعلان کیا کہ غزہ کی پٹی میں کشیدگی کے آغاز سے اب تک تقریباً سوا لاکھ فلسطینی بے گھر ہو چکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں