جزیرہ نما سیناء میں رفح راہداری : اسرائیل - فلسطین جنگ کی ایک اہم کڑی

مصر اور غزہ کی پٹی کے درمیان رفح راہداری اور سینائی اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ کا اہم میدان بننے والے ہیں۔

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

مصر اور غزہ کی پٹی کے درمیان رفح راہداری اور جزیرہ نما سیناء اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ کا اہم میدان بننے والے ہیں۔

اب تک آتشین جنگ کی وجہ سے دونوں طرف کے ہزاروں افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ جنگ حماس کے اچانک راکٹ حملوں سے ہفتے کے روز شروع ہو ئی تھی۔ تب سے اسرائیل کی جانب سے خوفناک بمباری جاری ہے۔

اقوام متحدہ کی اطلاعات کے مطابق اسرائیلی بمباری کی وجہ سے اب تک دو لاکھ ساٹھ ہزار فلسطینیوں کے گھر نشانہ بننے سے وہ نقل مکانی پر مجبور ہو چکے ہیں۔

رفح کی راہداری اس بمباری اور جنگ کے حوالے سے اہم ترین موقع بن گیا ہے۔ واضح رہے رفح کی راہداری غزہ کے باسیوں کا واحد راستہ ہے جس کے ذریعے ان کا باقی دنیا کے لوگوں سے رابطہ ممکن ہو پاتا ہے۔

اسی راستے سے غزہ کے زخمی ، بیمار باہر آ سکتے ہیں اور تعلیم و روزگار کے لیے غزہ سے جانے والے افراد کے لیے بھی یہی ایک راستہ ہے۔ کیونکہ دوسری جانب اسرائیلی محاصرہ کئی دہائیوں سے جاری ہے۔

یہی راہداری انسانی بنیادوں پر مصیبت زدہ فلسطینیوں کے لیے آنے والی امداد اور طبی امداد کی رسائی ممکن بناتی ہے۔ اسی طرح خوراک و ادویات کی فراہمی اور صاف پانی کے لیے بھی اس راہدرای کا کردار اہم ترین ہے۔

مزید یہ کہ رفح راہداری ایک سفارتی ذریعے کے طور پر بھی کام کرتی ہے۔ وہ امن بات چیت کے ذریعے اسرائیل، مصر اور عالمی اداروں کے درمیان ملاقاتوں اور معاہدات کا ذریعہ بھی بنتی ہے۔

ہفتے کے اختتام پرحماس کے کیے گئے غیر متوقع حملے کے نتیجے میں متعدد ہلاکتیں ہو چکی ہیں اور بہت سوں کو اغوا کیا جا چکا ہے۔ اسی طرح اسرائیل نے جوابی بمباری کی۔

مصر اب وسیع پیمانے پر غزہ سے ہونے والے انخلا کو صحرائے سیناء سے روکنے کی تیاری کر رہا ہے۔

مصری سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ اسرائیلی بمباری نے فلسطینی انکلیو سے نکلنے والے مرکزی راستے کی کراسنگ کو روک دیا ہے۔

مصری صدر عبدالفتاح السیسی نے کہا ہے کہ غزہ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی 'انتہائی خطرناک' ہے۔ مصر علاقائی اور بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے حل تلاش کر رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں