غزہ کی پٹی چند گھنٹوں میں تاریکی میں ڈوب جائے گی، فلسطینی محکمہ صحت کی امداد کی اپیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

فلسطین کے علاقےغزہ کی پٹی میں محکمہ صحت نے خبردار کیا کہ ہسپتالوں میں موجود ایندھن چند گھنٹوں میں ختم ہو جائے گا، جس سے پٹی مکمل تاریکی میں ڈوب جائے گی اور شہریوں کو بنیادی زندگی کی خدمات فراہم کرنا ناممکن ہو جائے گا۔

انرجی اتھارٹی کے سربراہ ظافر ملحم نے بدھ کو وائس آف فلسطین ریڈیو کو بتایا کہ غزہ الیکٹرسٹی کمپنی کا باقی ماندہ ایندھن کا ذخیرہ زیادہ سے زیادہ صرف دس سے بارہ گھنٹے کے لیے کافی ہے۔

اسرائیل نے پیر کے روز غزہ کی پٹی کو بجلی کی سپلائی منقطع کر دی جسے اس نے حماس کے اچانک اور بڑے پیمانے پر حملے کے خلاف جوابی کارروائی قرار دیا تھا۔

فلسطینی وزیر صحت می الکیلہ نے بدھ کے روز خبردار کیا کہ غزہ کی پٹی کے ہسپتالوں میں بجلی کے جنریٹرز کو چلانے کے لیے درکار ایندھن کا ذخیرہ کل ختم ہو جائے گا۔

وزیر نے وائس آف فلسطین ریڈیو کو دیے گئے بیانات میں کہا کہ یہ معاملہ ہسپتالوں میں ان حالات کو مزید بگاڑ دے گا جنہیں انہوں نے تباہ کن قرار دیا ہے۔

غزہ میں وزارت صحت نے کہا کہ ایندھن کے قریب قریب ختم ہونے کی وجہ سے اس کے متعدد اداروں کے کام بند کرنے کا خطرہ ہے۔ وزارت صحت نے تمام متعلقہ فریقوں سے اپیل کی کہ وہ ہسپتالوں میں ایندھن اور ادویات کی کمی کو پورا کرنے کے لیے ضروری ایندھن فراہم کریں۔

اس شعبے کے سرکاری میڈیا آفس نے ایک بیان جاری کیا ہے جس میں اس نے کہا ہے غزہ میں جاری جنگ کے باعث علاقے میں انسانی المیہ رونما ہونے کا اندیشہ ہے۔ بیان میں کہا گیا ہےکہ اسرائیل کی طرف سے مسلط کی گئی جنگ کے نتیجے میں 2.3 ملین سے زیادہ لوگوں کی زندگیوں کو خطرات لاحق ہیں۔

بدھ کی صبح غزہ میں بجلی کی تقسیم کار کمپنی نے 133 نمبر کے ذریعے کمپنی کے انفارمیشن سینٹر سسٹم میں اچانک بند ہونے کے بارے میں ایک اہم نوٹس جاری کیا۔

اس ہفتے کے شروع میں اسرائیلی وزارت توانائی نے آپریشن طوفان الاقصیٰ کے آغاز کے بعد غزہ کی پٹی کے لیے مختص بجلی کی سپلائی بند کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اسرائیلی وزیر توانائی یسرائیل کاٹز نے ایک مختصر بیان میں کہا کہ میں نے ایک حکم نامے پر دستخط کیے ہیں جس میں اسرائیلی بجلی کمپنی سے غزہ کو بجلی کی فراہمی بند کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

اس وقت پٹی میں توانائی کے صرف دو ذرائع ہیں۔ ایک مقبوضہ علاقوں سے گزرنے والی اسرائیلی لائنیں جو عام طور پر 120 میگاواٹ سے زیادہ بجلی فراہم کرتی ہیں۔ اس کے علاوہ دوسرا ذریعہ مقامی جنریٹنگ اسٹیشن جو 65 سے 120 میگاواٹ کے درمیان بجلی پیدا کرتے ہیں۔

غزہ میں وزارت صحت کے ترجمان اشرف القدرہ نے اسرائیل پر الزام لگایا کہ وہ جان بوجھ کر طبی عملے، ہسپتالوں اور ایمبولینسوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔

فلسطینی شہاب نیوز ایجنسی نے اشرف القدرہ کے حوالے سے بتایا کہ "طبی ٹیمیں خطرناک اور غیر محفوظ حالات میں کام کرتی ہیں۔ اسرائیلی فوج سوچے سمجھے منصوبے کے تحت انہیں نشانہ بنا رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں