غزہ کی پٹی کیا ہے۔ اسے کس نےکھلی جیل بنا دیا ؟

کس کی وجہ سے غربت و بیروزگاری اور پسماندگی کا گھر بن گئی؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
7 منٹس read

غزہ پر اسرائیلی فضائیہ کی بمباری مسلسل جاری ہے۔ بمباری کے ذریعے ایک کے بعد دوسری عمارت اور ایک کے بعد دوسرے ہمسائے کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔ یہ صورت حال فلسطینی مزاحمتی گروپ حماس کی طرف سے اسرائیل پر غیر معمولی اور ایسے راکٹ حملوں کے بعد شروع ہوئی ہے جنکی ماضی میں کوئی نظیر موجود نہیں تھی۔

اب تک کی اس دو طرفہ جنگ میں فریقین کے 2100 سے زائد افراد مارے جا چکے ہیں۔ خدشہ ہے کہ جنگ میں وسعت آجائے گی۔ کیونکہ اسرائیل کی طرف سے اہل غزہ کو انتقام کا نشانہ بنانے میں شدت آرہی ہے۔

جس غزہ کو اسرائیل کی طرف سے بارہا بمباری کا نشانہ بناتے کئی دہائیوں سے اسرائیلی فوج تباہ کرتی آئی ہے ۔اس کی شکل کیا ہے۔ جغرافیہ کیا ہے ۔ اہمیت کیا اور یہاں کے رہنے والے کون لوگ ہیں ۔نیز اسے دنیا کی سب سے بڑی کھلی جیل کیوں کہا جاتا ہے ۔ ان سوالوں کو اس رپورٹ میں دیکھتے ہیں۔

غزہ کی پٹی کیا ہے ؟

یہ چالیس کلو میٹر پر پھیلا خشکی کا ایسا ٹکڑا ہے جو اسرائیل اور مصر کے درمیان ایک سینڈوچ کی طرح موجود ہے۔

غزہ کے ساتھ ہی مغربی کنارے کا فلسطینی علاقہ بھی ہے۔ یہ دونوں جگہیں غزہ اور مغربی کنارا فلسطینی علاقے ہیں۔ دونوں کئی دہائیوں سے جنگی مرکز بنے ہوئے ہیں۔

آج کل مسلسل اسرائیلی بمباری کے باعث غزہ پر گہرے دھویں کے بادل مرغولوں کی طرح جابجا نظر آتے ہیں۔ البتہ رات کے وقت اس بادل نما بارودی دھویں سے زیادہ آگ کی بارش شعلوں کا روپ دھارتی نظر آنے لگتی ہے۔

اسرائیل نے غزہ شہر کو پہلے سے ہی بلاک کر رکھا ہے۔ یہ بلاکیڈ کئی برسوں پر محیط ہے۔ اس وجہ سے غزہ کے ارد گرد رکاوٹیں، دیواروں کی صورت میں باڑ اور دوسری رکاوٹیں کھڑی ہیں۔

حماس کے پاس اس غزہ کی پٹی کا کنٹرول 2007ء سے ہے۔ تب سے ہی اسرائیل نے اس کو محاصرے میں لے کر اسے دنیا کی ایسی کھلی اور بڑی جیل بنا دیا ہے جس پر ایک طرف آنے جانے کی اجازت نہیں تو دوسری جانب اسرائیل کی بمباری کی زد میں رہتی ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ غزہ سے باہر کے سب راستے حتی کہ جڑی ہوئی ساحلی پٹی بھی اسرائیلی جبری قبضے میں ہے۔


غزہ پٹی کیسے بنی ؟

غزہ کی یہ پٹی 1917 تک عثمانی خلافت کا حصہ رہی۔ 1917 میں اس کا کنٹرول برطانیہ کے پاس چلا گیا۔

جب اسرائیل کا 1948 میں قیام عمل میں لایا گیا تو ہزاروں فلسطینی مہاجرین کو غزہ میں دھکیل دیا گیا۔ اب ان کے وارثین اس زیر محاصرہ غزہ میں رہتے ہیں۔ اسی سال غزہ کی پٹی مصر کا حصہ بن گئی۔

بیس سال بعد 1967 میں اسرائیل نے مصر، اردن اور شام کے خلاف جنگ کی تو اسرائیل کا غزہ پر قبضہ ہو گیا۔اسی دوران یروشلم اور مغربی کنارا بھی اسرائیل کے زیر قبضہ چلا گیا۔

فلسطینیوں کا ان تینوں علاقوں کے بارے میں موقف ہے کہ یہ ان کی مستقبل کی فلسطینی ریاست کا حصہ ہیں۔

اسرائیل نے تیس برسوں سے زیادہ قبضہ رکھا اور یہودی بستیوں کی تعمیر بھی کی۔

1987 اور 1993کے دوران غزہ میں فلسطینیوں کا انتفادہ سامنے آیا ۔یہ مزاحمت غزہ اور مغربی کنارے میں پھیل گئی۔

1990 کی دہائی میں اوسلو امن عمل شروع ہو گیا۔جس کے نتیجے فلسطینی ریاست کا مطالبہ فلسطینی اتھارٹی کی صورت سامنے آیا۔ اسی معاہدے کے بعد غزہ اور مغربی کنارے کو بھی آزادی تو نہ ملی البتہ جزوی سی سہولت مل گئی۔

تاہم 2005 میں اسرائیل کو انتفادہ کی وجہ سے غزہ پر اپنا کنٹرول چھوڑنا پڑا۔ اسی سبب اسرائیل نے غزہ سے 9000 یہودی آباد کاروں کو ہٹا لیا۔ اسرائیلی فوج کو بھی نکال لیا۔

اگلے سال فلسطینی اتھارٹی کے انتخابات ہوئے اور حماس نے محمد عباس کے فتح گروپ سے الیکشن جیت لیا۔ شہر کا کنٹرول حماس کے منتخب لوگوں کی حکومت کے ہاتھ آگیا۔ لیکن اس کے بعد فلسطینی اتھارٹی جس کی کمان محمود عباس کے پاس ہے کے الیکشن دوبارہ نہیں کرائے گئے کہ حماس دوبارہ نہ جیت جائے۔
دوسری جانب اسرائیل نے حماس کے کنٹرول سنبھالنے کے بعد غزہ کا محاصرہ کر لیا ۔ اسرائیل کا دعوی تھا کہ اس طرح جنگجووں کو اسلحے کی سپلائی کو روکا جا سکے گا۔

اقوام متحدہ اور دوسرے انسانی حقوق گروپوں کی طرف سے اسرائیل کے اس محاصرے کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا ۔ اس محاصرے کی وجہ سے عملا اسرائیلی قبضہ چل رہا ہے۔

غزہ میں کون لوگ رہتے ہیں؟

غزہ دنیا کے گنجان ترین علاقوں میں سے ایک ہے۔ اس کی آبادی 23 لاکھ ہے۔ ان 23لاکھ میں سے نصف ابادی بچوں پر مشتمل ہے۔ ہونیسف کے مطابق قریبا دس لاکھ بچے غزہ میں رہتے ہیں۔ان کی عمر پندرہ سال سے کم ہے اور ہہ کل ابادی کا چالیس فیصد ہیں۔

عالمی بنک کے اعدادو شمار کے مطابق غزہ دنیا کے ان علاقوں میں بھی شامل ہے جہاں دنیا کی بد ترین بے روزگاری ہے۔ جبکہ غزہ میں رہنے والے 80 فیصد لوگ سخت غربت کی زندگی گذار رہے ہیں۔

پینے کا صاف پانی، بجلی، اور مناسب خوراک سے ہی محروم نہیں بلکہ طبی سہولیات کے حوالے سے انتہائی کسمپرسی ہے۔اس کے باوجود اسرائیل کی ان دنوں مسلسل جاری بمباری سے بھی پہلے اسرائیل نے ایک ٹوٹی پھوٹی سی ایمبولینس گاڑی کو بھی نشانے پر لے لیا۔

اقوام۔متحدہ کے ادارے اونروا کے مطابق غزہ میں پچانوے فیصد شہری صاف پانی سے محروم ہیں۔

اونروا کا کہنا ہے کہ پچھلے دس پندرہ برسوں کے دوران غزہ کے باسیوں کی زندگی پہلے سے بھی زیادہ پسماندگی کا شکار ہے۔

کھلی جیل کیوں کہا جاتا ہے ؟

دنیا کی سب سے بڑی کھلی جیل کا نام انسانی حقوق کی تنظیم ، دی ہیومن رائٹس واچ نے غزہ کو دیا ہے۔ اسرائیلی انسانی حقوق کی تنظیم کے مطابق اسرائیلی فوج فلسطینیوں کو عام طور پر غزہ کے دونوں طرف آنے جانے سے روکتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں