یورپی یونین نے غزہ کی مکمل ناکہ بندی کا اسرائیلی فیصلہ مسترد کر دیا

اسرائیل کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے مگراس کے اس کچھ فیصلے بین الاقوامی قوانین کے متصادم ہیں:جوزف بوریل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

یورپی یونین نے حماس کی طرف سے اسرائیل کےخلاف کی گئی فوجی کارروائی کے بعد تل ابیب کی جانب سے جنگ زدہ علاقے غزہ کی پٹی کا مکمل محاصرہ کرنے کا فیصلہ مسترد کردیا ہے۔

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ جوزپ بوریل نے منگل کے روز حماس کی کارروائی کے بعد اسرائیل کی جانب سے غزہ کی پٹی پر سخت ناکہ بندی کے نفاذ کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے یورپی یونین کے اکثر ممالک فلسطینی اتھارٹی کی امداد روکنےکے خلاف ہیں۔

بوریل نے یورپی یونین کے وزرائے خارجہ کے ساتھ ہنگامی مشاورت کے بعد صحافیوں کو بتایا کہ بین الاقوامی قانون کا احترام کرنے کا مطلب ہے کہ پانی، خوراک اور بجلی منقطع نہ کی جائے۔ ہم اسرائیلی وزیر دفاع یوآو گیلنٹ کے اس اعلان کو مسترد کرتے ہیں جس میں انہوں نے غزہ کی پٹی کو پانی،بجلی اور خوراک بھی بند کرنے کا حکم دیا تھا۔

انہوں نے مسقط میں صحافیوں کو بتایا کہ "اسرائیل کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے، لیکن یہ بین الاقوامی قانون اور انسانی قانون کے مطابق ہونا چاہیے۔ کچھ فیصلے اس بین الاقوامی قانون سے متصادم ہیں۔"

انہوں نے نشاندہی کی کہ یورپی یونین کے اجلاس میں "غزہ پر بمباری سے فرار ہونے والے لوگوں کے گذرنے میں سہولت فراہم کرنے کے لیے "انسانی ہمدردی کی راہداریوں کے قیام پر زور دیا گیا"۔

فلسطینی اتھارٹی کے لیے اس کی مالی امداد کے مستقبل کے حوالے سے برسلز سے ملے جلے اشاروں کے بعد بوریل نے کہا کہ یورپی یونین کے ممالک کی "بھاری اکثریت" نے امدادی رقم معطل کرنے کی مخالفت کی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ "تمام فلسطینی لوگ دہشت گرد نہیں ہیں۔ تمام فلسطینیوں کے خلاف اجتماعی سزا ناانصافی ہو گی۔ یہ ہمارے مفاد اور امن کے مفاد کے خلاف ہو گی۔"

یورپی کمیشن نے پیر کی شام کہا تھاکہ وہ فلسطینیوں کے لیے اپنی ترقیاتی امداد کا "دوبارہ جائزہ" لے رہا ہے۔

بوریل نے وضاحت کی کہ"ہمیں دو ریاستی فارمولے کے تحت قابل عمل اصول کی بنیاد پر ایک معاہدہ کرنے کے لیے کام کرنا چاہیے کیونکہ ہمیں کوئی دوسرا حل معلوم نہیں ہے"۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں