اسرائیل حماس جنگ مشرق وسطیٰ کی معیشت کے لیے زلزلہ ہے: جہاد ازعور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان جنگ مشرق وسطیٰ کے لیے ایک زلزلہ ہے۔ یہ بات آئی ایم ایف کے مشرق وسطیٰ کے لیے ڈائریکٹر جہاد ازعور نے کہی ہے۔ وہ آئی ایم ایف کی سالانہ کانفرنس کے موقع پر پینل ڈسکشن میں حصہ لے رہے تھے۔

ان کے بقول ہفتے کے روز سے شروع ہونے والی تصادم کی صورت حال میں مشرق وسطیٰ کے لیے معاشی بچاو کی تدابیر کرنا ایک چیلنج ہو گا۔ یہ صورت حال عالمی معیشت کے لیے بھی اسی طرح اچھی نہیں ہوگی۔

جہاد ازعور کے مطابق ' یہ بہت مشکل ہو گا کہ خطے میں معاشی و مالیاتی اعتبار سے بہتری لائی جا سکے ، کیونکہ ابھی تک اس سلسلے میں بڑے بڑے سوالوں کا جواب موجود نہیں ہے۔ '

انہوں نے کہا ' تیل کی قیمتیں ہفتے کے روز سے پہلے ہی پانچ دالر بڑھ گئی ہیں۔ جبکہ دیگر منڈیاں ابھی حرکت میں نہیں آئی ہیں۔ لیکن یہ بڑا مسئلہ پیدا ہو گیا ہے اور یہ بہت چیلجنگ ہوگا۔'

'اس چیلنج کی رفتار اور آنے والے دنوں میں کیا ہو سکتا ہے اس کا کوئی اندازہ نہیں ہے۔اس لیے اس کے اثرات مختصر مدتی ہوں یا طویل مدتی لیکن ہوں گے ۔ اس لیے یہ ایک زلزلہ ہے۔ '

واضح رہے حماس اور اسرائیل کے درمیان تصادم کو نتن یاہو نے ایک جنگ قرار دیا تھا۔

جہاد ازعور نے کہا ' نئی جنگی صورت حال کی وجہ سے تیل کی قیمت میں اگرچہ اضافہ ہوا ہے مگر یہ ابھی پچھلے کئی ماہ کے مقابلے میں کم ہے۔ تاہم تیل اور سونے کی قیمت میں اضافہ ہوا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں