حماس کے ہاں یرغمال اسرائیلی خاتون کی رہائی کےبعد بچوں سمیت سرحد پار جانے کی ویڈیوجاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

بدھ کی شام حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈز نے ایک ویڈیو کلپ شائع کیا جس میں ایک اسرائیلی خاتون اور اس کے دو بچوں کو غزہ کی پٹی میں کئی دنوں تک حراست میں رکھنے کے بعد رہا کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

اس کلپ کے ساتھ ساتھ تصویر میں اسرائیلی خاتون کو اپنے دو بچوں کے ساتھ غزہ کی پٹی اور اسرائیل کو الگ کرنے والی باڑ کو عبور کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے، جس کے ساتھ القسام بریگیڈ کے بندوق بردار بھی وہاں تک آئےتھے۔

ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ دونوں بچوں نے نیلے رنگ کی شرٹس پہن رکھی ہیں۔

انہیں القسام بریگیڈ کے تین جنگجو سرحد پر چھوڑ کر واپس ہو رہےہیں تاہم القسام کی طرف سے یہ واضح نہیں کیا گیا کہ یہ ویڈیو کب شوٹ کی گئی تھی۔

مختصر کلپ کے مطابق القسام کے بندوق برداروں نے اسرائیلی خاتون کو غزہ کی طرف واپس جانے سے پہلے باڑ میں داخل ہونے دیا۔

اسرائیل نے واقعے کو حماس کا ’ڈرامہ‘ قرار دیا

اس واقعے پر تبصرہ کرتے ہوئے اسرائیلی فوج کے ترجمان اویچائی ادرعی نے جمعرات کو عرب ورلڈ نیوز ایجنسی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی فورسز غزہ میں حماس کے ٹھکانوں پر "بغیر کسی وقفےکے" حملے جاری رکھیں گی۔

انہوں نے اسرائیلی خاتون کی رہائی کی ویڈیو کو حماس کے پروپیگنڈے کا حصہ قرار دیتے ہوئے اسے مسترد کردیا۔

حماس نے ایک اسرائیلی خاتون اور اس کے دو بچوں کو رہا کر دیا
حماس نے ایک اسرائیلی خاتون اور اس کے دو بچوں کو رہا کر دیا

خاتون اور دونوں بچوں کو کبوتز ہولیت کے علاقے میں رہا کیا گیا تاہم یہ واضح نہیں ہو سکا کہ آیا یہ پیش رفت کسی تیسرے فریق کی مدد سے کی گئی ہے یا نہیں۔

اسرائیلی نیوز ویب سائٹ "مافزاک لائف" نے اطلاع دی ہے کہ اسرائیلی خاتون کا نام ایویتال الجیم تھا اور جب انہیں حراست میں لیا گیا تو اس کے ساتھ جو دو بچے تھے۔ وہ اس کی دوست کے بیٹے تھے جن میں سے ایک کی عمر 4 سال اور دوسرے کی عمر 6 ماہ تھی۔ .

ویب سائٹ کے مطابق دونوں بچوں کی حقیقی ماں ابھی تک غزہ میں زیرحراست ہے اور اس کا نام عدی وائٹل کبلون بتایا جاتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں