سعودی عرب کی اولین آبی ہوائی جہاز کمپنی کی پرواز اور ابتدا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ریڈ سی گلوبل نے بدھ کے روز سعودی عرب کی پہلی آبی ہوائی جہاز کمپنی کا آغاز کیا جو مہمانوں کو مملکت کے بحیرۂ احمر جزیرے کے تفریحی مقامات پر لے جایا کرے گا۔

آر ایس جی نے اپنی ویب سائٹ ریڈسی گلوبل ڈاٹ کام پر اعلان کیا کہ فلائی ریڈ سی کے نام سے اس کمپنی کے پاس چار سیسنا کاروان 208 آبی ہوائی جہازوں کا ابتدائی بیڑا ہے جو ہوابازی کے پائیدار اور قابلِ تائید ایندھن پر پرواز کریں گے۔

آر جی ایس نے کہا، " پانی پر مبنی سیرگاہوں میں مہمانوں کی منتقلی کے لیے ہر ہوائی جہاز میں ایک پائلٹ اور سامان کے ساتھ چھ مہمانوں تک یا پوری منزل کے قدرتی دوروں کے لیے نو مہمانوں تک کو لے جانے کی گنجائش ہے۔"

ریڈ سی گلوبل کے گروپ سی ای او جان پگانو جو دنیا کے سب سے زیادہ بلندعزم اور تجدیدِ نو سیاحتی مقامات – دی ریڈ سی اور امالہ - کے کثیر منصوبہ ڈویلپر ہیں، نے کہا۔ "ازخود ایک پائلٹ کے طور پر میں نے فلائی ریڈ سی بنانے کی کوششوں میں گہری دلچسپی لی۔"

انہوں نے کہا، "ہمارا مقصد ایک ایسی کمپنی بنانا تھا جو ہوابازی کی صنعت کے کاربن فٹ پرنٹ کو کم کرنے کے لیے ٹیکنالوجیز تلاش کرے اور سعودی لوگوں کو ہنر مندانہ اور اطمینان بخش کیریئر کے مواقع فراہم کرنے کو ترجیح دے۔"

تبوک کے علاقے ہانک میں بحیرۂ احمر کا بین الاقوامی ہوائی اڈہ فلائی ریڈ سی کے ہوم بیس کے طور پر ہوگا جس میں مرکزی ٹرمینل کے متوازی چلنے والا آبی ہوائی جہاز کا ایک رن وے ہے۔

حسنِ اتفاق تھا کہ فلائی ریڈ سی کی اولین پرواز اور نئے ایئرپورٹ کے اولین مہمانوں کے ایک وی آئی پی وفد کی آمد 11 اکتوبر کو بیک وقت تھی۔ سعودی وزراء اور دیگر رہنماؤں کا یہ وفد ریاض سے ایک خصوصی سعودی وردی پوش پرواز پر سوار تھا۔

سب سے پہلے 21 ستمبر 2023 کو عمل میں لائے گئے ایئرپورٹ کو مملکت کے ریڈ سی ڈیویلپمنٹ اور امالہ کے عظیم سیاحتی منصوبوں کی خدمت کے لیے بنایا گیا تھا۔

منصوبے کے مطابق فلائی ریڈ سی کے بیڑے کو 2028 تک نو اور 2030 تک 20 آبی ہوائی جہازوں سے زیادہ کر دیا جائے گا جو سیاحتی مقام کے ترقیاتی مراحل کے مطابق ہو گا۔

مہمانوں کو مملکت کے بحیرۂ احمر کے سیاحتی مقامات تک پہنچانے کے لیے فلائی ریڈ سی کے پاس چار سیسنا کاروان 208 جہازوں کا ابتدائی بیڑا ہے۔ (تصویر بشکریہ: ریڈسی گلوبل ڈاٹ کام)
مہمانوں کو مملکت کے بحیرۂ احمر کے سیاحتی مقامات تک پہنچانے کے لیے فلائی ریڈ سی کے پاس چار سیسنا کاروان 208 جہازوں کا ابتدائی بیڑا ہے۔ (تصویر بشکریہ: ریڈسی گلوبل ڈاٹ کام)

2030 میں مکمل ہونے کے بعد سیاحت کی نئی منزل 50 سیرگاہوں پر مشتمل ہوگی جو 22 جزائر اور چھ اندرونِ ملک مقامات پر 8,000 ہوٹل رومز اور 1,000 سے زیادہ رہائشی املاک پیش کرے گی۔

ریڈ سی گلوبل کی ویب سائٹ کے مطابق اس سیاحتی مقام میں پرتعیش چھوٹی لنگرگاہیں، گولف کورسز، تفریح، ایف اینڈ بی اور فُرصت کے اوقات کی سہولیات بھی شامل ہوں گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں