مقبوضہ مغربی کنارے میں جنازے کے دوران دو فلسطینیوں کا قتل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

عالمی آبادی میں اضافے کے ساتھ ساتھ پائیدار مستقبل کے حصول کے لیے خوراک اور پانی کی مستحکم فراہمی کو یقینی بنانا اہم ہو گیا ہے۔

سعودی عرب جو کہ ہمیشہ تبدیلی کو اپنانے میں آگے رہتا ہے، نے اس چیلنج کو اپنی پائیدار ترقی کے اقدامات میں مرکزی اہمیت دی ہے۔ حکومتی اداروں اور چھوٹے سے درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کے ذریعے کارفرما یہ حکمت عملی سعودی عرب کے فوڈ سکیورٹی کے منظر نامے میں قابل ذکر تبدیلیاں لا رہی ہے، جس میں مختلف اسٹیک ہولڈرز فعال طور پر اپنا حصہ ڈال رہے ہیں۔

عبدالعزیز آل سعود، سی ای او اور برکہ کے شریک بانی ہیں۔ ان کی کمپنی نے فوڈ سکیورٹی کے منظر کو نئی شکل دینے پر توجہ مرکوز کی ہوئی ہے۔ انہوں نے بتایا پچھلی دہائی کے دوران، سعودی عرب نے اپنی غذائی تحفظ کو بڑھانے میں اہم پیش رفت دکھائی ہے۔

ال سعود نے درآمدات پر انحصار کو کم کرتے ہوئے خوراک کے ذرائع کو متنوع اور مقامی بنانے کے لیے مملکت کے اقدامات پرتوجہ مرکوز رکھی۔ اس حوالے سے زرعی ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری اور بیرون ملک کھیتی باڑی کا آغاز تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ نئی ٹیکنالوجی کو اپنانا اس زرعی ترقی کے عمل میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔

ال سعود نے بتایا کہ سعودی عرب نے کس طرح جدید زرعی تکنیکوں کو مقامی پیداوار کو بڑھانے، پانی کے ضیاع کو کم کرنے اور زرعی شعبے میں کارکردگی کو بڑھانے کے لیے استعمال کیا گیا۔

ان کوششوں کی اہمیت اس وقت مزید اجاگر ہوئی جب مملکت کے ادارہ برائے شماریات نے ستمبر میں ملکی سطح پر کھجور، دودھ کی مصنوعات اور انڈوں کی پیداوار میں خود کفالت کے اعداد شمار جاری کئے۔ جن سے پتہ چلتا ہے کہ سعودی عرب کی پیداوار ان اشیا کی مقامی طلب سے کافی زیادہ ہے، یعنی اس کے پاس انکی برآمد کی گنجائش بھی موجود ہے۔

ال سعود نے وزارت ماحولیات کے 10 بلین ڈالر کے حالیہ ایکشن پلان کا حوالہ دیتے ہوئےکہا کہ عالمی سطح ہر خوراک کی فراہمی کے چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے مملکت نے بروقت اور درس سمت میں اقدامات اٹھائے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مملکت سعودی عرب نے زرعی مقاصد کے لیے پانی کے استعمال کو روایتی طریقوں کے مقابلہ میں 40 فیصد سے زیادہ کم کرنے میں بھی کامیاب رہا ہے جس سے اس خطہ میں اس ایک اہم چیلنج کو کافی حد تک حل کیا ہے۔

ان اقدامات کی بدولت صرف سال 2022 میں گذشتہ سال کے مقابلے میں زرعی شعبے کی ترقی میں 7.8 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جو ہماری غذائی تحفظ کی حکمت عملیوں کے مثبت اثرات کو ظاہر کرتا ہے۔

اسکائی کرٹز، سی ای او ،پیور ہارویسٹ سمارٹ فارمز کے بانی ہیں جو کہ متحدہ عرب امارات کی ایک سرکردہ ایگری ٹیک انٹرپرائز ہے۔ زرعی ترقی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سعودی حکمت عملی مستقبل میں خوراک کی خود کفالت کو یقینی بنانے کیلئے ٹھوس اقدامات پر مشتمل ہے۔

کرٹز نے بتایاکہ سعودی عرب جارحانہ اور دفاعی پالیسی اقدامات کے ساتھ ساتھ، غذائی تحفظ کو آگے بڑھانے کے لیے انتہائی متحرک رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مثال کے طور پر، مملکت نے مقامی پروڈیوسروں کو تحفظ فراہم کرنے اور درآمدات کے مقابلے میں انکی مسابقت کو بہتر بنانے کے لیے خوراک کی مصنوعات پر درآمدی محصولات کی شرح میں اضافہ کیا ہے۔

انہوں نے سعودی عرب کے زرعی ترقیاتی فنڈ کا بھی حوالہ دیا، جس نے اس شعبے کی ترقی کو تیز کرنے کے لیے فیصلہ کن اقدامات کیے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ اقتصادی خوشحالی کا ایک اہم محرک ہونے کے ناطے، نئی تکنیکی جہتوں کو اپنانے سے بھی غذائی تحفظ کے چیلنجوں سے نمٹنے میں بھرپور مدد ملی ہے۔

ال سعود بھی اس سے متفق ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب نے فصلوں کی فضائی نگرانی، آبپاشی کے خودکار انتظام اور کیڑوں کے حملوں پر قابو پانے کے لیے درست معلومات، ڈیٹا اینالیٹکس، ڈرونز اور انٹرنیٹ آف تھنگز کے استعمال میں بہت زیادہ سرمایہ کاری کی ہے۔

ان اقدامات کے نتیجے میں نہ صرف پیداوار میں اضافہ ہوا ہے بلکہ وسائل کے استعمال میں بھی کمی آئی ہے جس سے پیداواری لاگت کو نمایاں حد تک نیچے لانا ممکن ہوا۔

آل سعود نے مزید کہا کہ مملکت کا مٹی کے بغیر کاشتکاری کی تکنیکوں جیسے ہائیڈرو پونکس اور ایکوا پونکس کی طرف توجہ بڑھانا اور کنٹرول شدہ ماحول میں خوراک کی کاشت جیسے اقدامات سے پانی کے استعمال میں ڈرامائی طور بچت کی گئی ہے۔

اس کے علاوہ یہ کاشت کے یہ طریقے موسمیاتی تبدیلیوں کے منفی اثرات سے بچنے میں بھی مدد دیتے ہیں جس سے پیداوار میں اضافے کو پائدار بنیادوں پر یقینی بنانا ممکن ہوا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں