جنوبی لبنان: ’اسرائیلی بمباری‘ میں ایک صحافی کی موت، چھ زخمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اے ایف پی کے ایک زخمی نامہ نگار کے مطابق مختلف میڈیا اداروں کے صحافیوں کا ایک گروپ اسرائیلی سرحد کے قریب کام کر رہا تھا جب ان پر گولہ باری ہوئی۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق جمعے کو جنوبی لبنان میں اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے والے رائیٹرز کا ایک صحافی جان سے گیا جبکہ اے ایف پی، رائیٹرز اور الجزیرہ کے چھ دیگر صحافی زخمی ہو گئے۔

اے ایف پی کے دو زخمی نامہ نگاروں میں سے ایک نے بتایا کہ مختلف میڈیا اداروں کے صحافیوں کا ایک گروپ اسرائیل کی سرحد کے قریب علما الشعب کے مقام پر تھا جب وہ گولہ باری میں پھنس گئے۔

لبنان کے ایک سکیورٹی ذرائع نے اے ایف پی کو بتایا کہ ایک فلسطینی گروپ کی جانب سے سرحد کے لبنانی حصے سے دراندازی کی کوشش کے بعد اسرائیل نے گولہ باری کی۔

خبر رساں ادارے رائیٹرز نے ایک بیان میں کہا کہ ’ہمیں یہ جان کر بہت دکھ ہوا کہ ہمارے ویڈیو گرافر اسام عبداللہ جان سے گئے۔‘ رائیٹرز کے مطابق اسام جنوبی لبنان میں رائیٹرز کے عملے کا حصہ تھے۔

رائیٹرز نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ ’طاہر السوڈانی اور مہر نازیہ بھی زخمی ہوئے ہیں اور انہیں طبی امداد دی جا رہی ہے۔‘

اے ایف پی کی فوٹوگرافر کرسٹینا آسی اپنے ساتھی ویڈیو جرنلسٹ ڈیلن کولنز کے ساتھ اسی علاقے میں کام کر رہی تھیں۔ دونوں کو علاج کے ایک ہسپتال لے جایا گیا۔

الجزیرہ کا کہنا ہے کہ زخمیوں میں ان کے دو صحافی بھی شامل ہیں۔ ادارے نے اپنی گاڑی پر اسرائیلی بمباری کا الزام عائد کیا ہے۔

اے ایف پی کے گلوبل نیوز ڈائریکٹر فل چیٹوائنڈ کا کہنا تھا کہ 'ہمیں اس بات پر گہری تشویش ہے کہ صحافیوں کا ایک گروپ، جن کی واضح طور پر شناخت کی گئی تھی، کام کرتے ہوئے جان سے گئے اور زخمی ہوئے۔‘

فل نے بیان میں رائیٹرز کے ساتھ اسام کی موت پر اظہار تعزیت بھی کیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں