غزہ:مصری خاتون کی بچی اسرائیلی بمباری میں شہید، گلیاں، سڑکیں انسانی لاشوں سے بھر گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

غزہ کی پٹی میں فلسطینی دھڑوں اور اسرائیل کے درمیان مسلسل لڑائی کے دوران اسرائیلی بمباری میں شہید ہونے والی ایک مصری خاتون کی بیٹی اور اس کی بہن نے اس واقعے اور وہاں کی صورت حال کے بارے میں نئی اور لرزہ خیز تفصیلات کا انکشاف کیا ہے۔

نوجوان فلسطینی خاتون علاء یونس العمرین مصری خاتون حیات خلیل الدسوقی کی بیٹی نے بتایا کہ تمام 8 افراد جو اس وقت گھر میں موجود تھے بم حملے شہید ہو گئے۔ وہ سو رہے تھے جن ان پربم گرائے گئے۔ان کی تین سالہ بچی کی لاش ابھی ملبے تلے دبی ہوئی ہے۔

مکان مکمل طور پر تباہ ہو گیا

اس نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ اسرائیلی فورسز نے پیر کی صبح ٹھیک تین بجے غزہ کے جنوب میں واقع خان یونس میں واقع ان کے گھر پر بمباری کی، جہاں اس کی والدہ اور خالہ حوویدہ خلیل الدسوقی، اس کے ساتھ اس کی بہن، بھائی، اس کی بیوی اور اس کے تین بچے تھے وہ سب اس وحشیانہ بمباری میں شہید ہوگئے۔

اس نے نشاندہی کی کہ اس کی خالہ نے منگل کی صبح مصر واپس جانا تھا، لیکن وہ بمباری میں مر گئی اور انہیں فلسطین میں اپنی بہن کے پاس دفن کیا گیا۔

حالات بہت مشکل ہیں

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ غزہ بھر میں حالات اس وقت بہت مشکل ہیں، کیونکہ وہاں بجلی ہے نہ پانی ہے، جبکہ بیکریاں 70 فیصد تک بند ہو چکی ہیں۔

فلسطین میں مقیم مصری خاتون
فلسطین میں مقیم مصری خاتون

انہوں نے مزید کہا کہ بمباری سے علاقہ زمینی، سمندری اور فضائی ہر متاثر ہو رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ غزہ کی پٹی کی سڑکیں قبرستانوں میں تبدیل ہو چکی ہیں۔ ہر طرف لاشیں یا کٹے ہوئے انسانی اعضا بکھرے پڑے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں