غزہ کا محاصرہ جاری رہا تو اسرائیل کیخلاف دوسرے محاذ کھل سکتے ہیں: ایران

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایرانی وزیر خارجہ نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیل نے غزہ کا محاصرہ سویلینز پر بمباری جاری رکھی تو ایران کے حمایت یافتہ جنگجو اسرائیل کے خلاف نئے جنگی محاذ کھول سکتے ہیں۔ وزیر خارجہ حسین عبداللہیان نے یہ بیان لبنان میں حزب اللہ سربراہ سے ملاقات سے قبل دیا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا ' بالکل اسرائیل کی طرف سے جنگی جرائم کا سلسلہ جاری رہا اور اسرائیل نے انسانی بنیادوں پر غزہ کا' بلاکیڈ' ختم نہ کیا تو ردعمل میں کچھ بھی امکان مسترد نہیں کیا جا سکتا ہے۔ '

انہوں نے بیروت میں رپورٹرز سے بات کرتے ہوئے مزید کہا 'دوسروں کی طرف سے بھی فلسطینی مزاحمت کے حق میں فیصلہ کیا جا سکتا ہے۔ ' رپورٹرز نے ان سے اسرائیل کے خلاف کسی ممکنہ دوسرے محاذ کے حوالے سے سوال پوچھا تھا۔

اس موقع پر انہوں نے غزہ میں عام شہریوں پر بمباری، بجلی و پانی کی بندش ایسے اسرائیل اقدامات کو جنگی جرائم قرار دیا۔

حزب اللہ کی طرف بعد ازاں جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ نے ایرانی وزیر خارجہ کے ساتھ ملاقات کی۔ دونوں رہنماوں نے خطے میں جاری تاریخی نوعیت کے پیش آنے والے واقعات کے بارے میں تمام ممکنہ صورتوں اور آپشنز کا جائزہ لیا گیا۔

واضح رہے حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان پچھلے چند دنوں میں کئی جھڑپیں ہو چکی ہیں۔ لیکن یہ جھڑپیں ایک باقاعدہ جنگی حالت میں تبدیل نہیں ہوئی ہیں۔

اس سے قبل 2006 میں حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان 34 روزہ جنگ ہو چکی ہے۔ بعد ازاں حزب اللہ نے شام کی جنگ میں بھی بشارالاسد کے حق میں بھر پور کردار ادا کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں