غزہ کا ناطقہ بند کرنےسے متعلق سوال پر سابق اسرائیلی وزیراعظم نے صحافی پر برس پڑے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیل کی طرف سے حماس کے خلاف انتقامی کارروائی کے طور پر غزہ کے محصور عوام کا دانہ پانی بند کیےجانے کے ظالمانہ فیصلے کےبارے میں پوچھے گئے سوال پر سابق اسرائیلی وزیراعظم نفالی بینیٹ آپے سے باہر ہو گئے۔

نہتے فلسطینی بچوں کے بے دردی سے قتل عام کے سوال پر صہیونی ریاست کے سابق وزیراعظم کے غم وغصے پر مبنی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہے جس پر ناقدین کی طرف سے سخت تنقید کرتے ہوئے ان کے الفاظ کو نسل پرستی قرار دیا ہے۔

انہوں نے برطانوی ٹی وی کے صحافی کو فلسطینی بچوں کی بات کرنے پر اسے ’بے شرم‘ کہہ دیا۔

برطانیہ کے اسکائی نیوز چینل کے نامہ نگار نے جب بینیٹ سے پوچھا کہ اسرائیل کی طرف سے دانہ پانی بند کیے جانے کی وجہ سے غزہ میں مرنے والے بچوں کا کیا قصور ہے؟۔

"ہم نازیوں سے لڑتے ہیں"

نفتالی بینیٹ نے طنزیہ انداز میں کہا کہ "کیا آپ واقعی مجھ سے غزہ میں فلسطینی شہریوں کے بارے میں پوچھ رہے ہیں؟ کیا بات ہے؟ ہم نازیوں سے لڑ رہے ہیں"۔

انہوں نے غزہ کے تمام فلسطینیوں کا حوالہ دیتے ہوئے اس بات پر بھی زور دیا کہ ان کا ملک اپنے دشمنوں کو پانی اور بجلی نہیں دے گا۔

جب براڈکاسٹر نے اسے شہریوں اور بچوں کے بارے میں پوچھنے کے لیے روکا تو بینیٹ نے غصے میں اپنی آواز بلند کی اور کہا کہ ’’تمہیں شرم آنی چاہئیے‘۔

یہ کلپ سوشل میڈیا پر وسیع پیمانے پرگردش کررہا ہےخاص طور پر فلسطینیوں اور غزہ کے ہمدردوں میں اسے وائرل کرتے ہوئے کہا ہے کہ نینیٹ کے الفاظ اسرائیل کی "نسل پرستی" کا واضح ثبوت ہیں۔

اسرائیل نے گزشتہ سوموار سے غزہ پر سخت ناکہ بندی کر رکھی ہے امدادی سامان اور ایندھن کے داخلے کو روک دیا ہے اور بجلی اور پانی بھی منقطع کر دیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں