ملبے تلے دبی فلسطینی خاتون کی ہاتھ بڑھا کر مدد کے لیے فریاد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

غزہ کی پٹی پر اسرائیلی قابض فوج کی طرف سے نہتے شہریوں پر وحشیانہ بمباری سے ہونے والی تباہی کے قیامت خیز مناظر سامنے آ رہے ہیں۔ ان میں ایک تازہ واقعے نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا جس میں تباہ شدہ عمارت کے ملبے تلے دبی زندہ خاتون کو ہاتھ بڑھا کر مدد کی فریاد کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔

جیسے جیسے وقت گذر رہا ہے غزہ کی پٹی میں اسرائیلی بمباری سے اموات اور زخمیوں کی تعداد میں غیرمعمولی اضافہ ہو رہا ہے۔

غزہ میں ہونے والی تباہی اور بربادی کے خوفناک مناظر سے سوشل میڈیا بھرا پڑا ہے۔

انہی مناظرمیں ملبے کے نیچے دبی ایک خاتون کو مدد کے لیے ہاتھ بڑھا کر اشارہ کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔ خاتون کے سامنے آنے کے بعد امدادی کارکنوں نے اسے بچانے کے لیے ہرممکن کوشش کرنے کی یقین دہانی کرائی۔

سوشل میڈیا پر وائرل کلپ میں امدادی کارکنوں کو خاتون کو کہتے سنا جا سکتا ہے کہ وہ اپنے ہاتھ ٹارچ پر رکھے تا کہ بچانے والے اسے دیکھ سکیں۔

اس کا حوصلہ بلند کرنے کے لیے امدادی کارکن نے مزید کہا کہ "فکر نہ کریں، اپنے آپ کو مضبوط رکھیں۔ نوجوان مصروف ہیں۔ جلد ہی آپ کو نکال لیں گے"۔

اگرچہ یہ واضح طور پر معلوم نہیں ہے کہ یہ کلپ کب اور کہاں ریکارڈ کیا گیا۔ غزہ کی پٹی کے کئی محلوں کو گذشتہ دنوں شدید بمباری کا نشانہ بنایا گیا، جن میں الرمال ، جبالیہ کیمپ اور دیگر علاقے شامل ہیں۔

مرنے والوں میں نصف خواتین اور بچے

یہ وااقعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب فلسطینی وزارت صحت نے بتایا ہے کہ غزہ کی پٹی میں ہونے والی اموات میں سے نصف کے قریب خواتین اور بچے ہیں۔

وزارت صحت نے اعلان کیا کہ غزہ کی پٹی پر اسرائیلی فضائی حملوں کے نتیجے میں کم از کم 447 بچے مارے گئے۔ وزارت صحت نے اپنے ٹیلی گرام چینل پر ایک بیان میں کہا کہ 248 خواتین اور 447 بچے غزہ پر اسرائیلی بمباری میں لقمہ اجل بن چکے ہیں۔

غزہ پر اسرائیلی بمباری کا منظر

اس طرح لڑائی کے آغاز سے اب تک فلسطینی شہداء کی تعداد 1,448 ہو گئی ہے، جن میں غزہ کی پٹی میں 1417 اور مغربی کنارے میں 31 فلسطینی شہید ہوئے۔

غزہ کی پٹی میں الشفاء اسپتال کے ریفریجریٹرز لاشوں سے بھر گئے ہیں جس کے بعد مزید فلسطینیوں کی لاشیں رکھنے کی گنجائش نہیں بچی۔ غزہ کی پٹی پر اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں مارے فلسطینیوں کے خون میں لت پت لاشوں کو ہسپتال کے باہر باہر فٹ پاتھ پر ڈھیرکیا جا رہا ہے۔

لاشوں کو منتقل نہیں کیا جا سکا

سکیورٹی کے مشکل حالات کی وجہ سے لاشوں کو نماز اور تدفین کے لیے مساجد تک پہنچانا ممکن نہیں رہا۔ ان میں سے کچھ لاشیں پورے خاندان کی ہیں، جس کی وجہ سے ان کی تدفین کی تیاری ان کے خاندان کے دیگر افراد کی تلاش کی جا رہی ہے۔

شہداء میں بہت سے بچے ہیں۔ تھیلوں کے سائز بتاتے ہیں کہ شہید ہونے والے بچوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔

قابل ذکر ہے کہ اسرائیل نے ہفتے کے روز حماس کی جانب سے کیے گئے فضائی، زمینی اور سمندری حملے کے جواب میں غزہ پر وحشیانہ جنگ مسلط کی تھی۔

دونوں فریقوں کے درمیان کشیدگی کے نتیجے میں غزہ کی پٹی میں 1354 فلسطینی شہید اور 6049 زخمی ہوچکے ہیں۔ شہداء اور زخمیوں کی تعداد ہر گذرتے لمحے بڑھ رہی ہے دوسری طرف اسرائیل میں ہلاکتوں کی تعداد 1200 سے تجاوز کر گئی اور 3297 افراد زخمی ہوئے۔

فوج کے مطابق حماس اب تک اسرائیل پر پانچ ہزار سے زیادہ راکٹ فائر کر چکی ہے۔

دریں اثنا اسرائیل نے غزہ کی پٹی کی مکمل ناکہ بندی کی ہے۔ غزہ کا پانی ، بجلی اور ایندھن سب کچھ بند کردیا گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں