یواےای کی ابوظہبی ہوائی اڈے پرامریکی طیارے کےاسرائیل-حماس تنازع سےمنسلک ہونے کی تردید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

متحدہ عرب امارات نے ان خبروں کی تردید کی ہے کہ ابوظہبی میں الظفرہ ایئر بیس پر امریکی فوجی طیاروں کی آمد کا تعلق اسرائیل اور عسکریت پسند گروپ حماس کے درمیان جاری تنازع سے ہے۔

جمعہ کو جاری کردہ ایک بیان میں متحدہ عرب امارات کی وزارتِ دفاع نے کہا، "یہ الزامات بے بنیاد ہیں۔"

وزارتِ دفاع نے کہا کہ امریکہ سے فوجی طیارے "متحدہ عرب امارات اور ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے درمیان فوجی تعاون کے فریم ورک کے اندر پہلے سے طے شدہ ٹائم ٹیبل" کو مدنظر رکھتے ہوئے خلیجی ریاست میں پہنچ رہے ہیں۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ طیارے کی آمد کا "خطے میں اس وقت ہونے والی پیش رفت سے قطعاً کوئی تعلق نہیں ہے۔"

دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ فوجی شراکت داری ہے۔ متحدہ عرب امارات کی فضائیہ امریکی ساختہ ایف-16 جیٹ طیاروں کو چلاتی ہے اور انہیں برسوں سے جدید دفاعی نظام فراہم کیے جا رہے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق الظفرہ ایئر بیس متحدہ عرب امارات میں مقیم تقریباً 5000 امریکی فوجی اہلکاروں کا مسکن ہے۔

امریکی وزیرِ دفاع لائیڈ آسٹن نے مشرقی بحیرۂ روم میں طیارہ بردار اسٹرائیک گروپ کی تعیناتی اور لڑاکا طیاروں کو وسعت دینے کا حکم دیا۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے منگل کو کہا کہ یو ایس ایس گیرلڈ آر۔فورڈ کیریئر سٹرائیک گروپ مشرقی بحیرۂ روم میں کسی ایسے عنصر کو روکنے کے لیے پہنچا ہے جو کشیدگی میں اضافہ یا غزہ-اسرائیل جنگ کو وسیع کرنا چاہتا ہو۔

شرقِ اوسط کی تازہ ترین صورتحال نے عالمی رہنماؤں کو پریشان کر دیا ہے جن میں سے کئی تاریخی طور پر غیر مستحکم خطے میں امن کی بحالی کے لیے کوشاں ہیں۔

جمعرات کو اسرائیل کا دورہ کرنے والے امریکی وزیرِ خارجہ انٹونی بلنکن کا سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر اور مصر کا دورہ بھی متوقع ہے۔ اسرائیل میں بات کرتے ہوئے بلنکن نے کہا کہ وہ شاہ عبداللہ اور فلسطینی صدر محمود عباس سے ملاقات کے لیے اردن کا بھی دورہ کریں گے۔

پینٹاگون کے سربراہ لائیڈ آسٹن اور یورپی کمیشن اور پارلیمنٹ کے صدور ارسولا وان ڈیر لیین اور روبرٹا میٹسولا ان سفارت کاروں میں شامل ہیں جن کا جلد اسرائیل کا دورہ طے شدہ ہے۔

فلسطینی عسکریت پسند گروپ حماس کی طرف سے اسرائیل پر مکمل حملہ شروع کرنے اور کم از کم 100 اسرائیلیوں کو تاحال یرغمال بنائے رکھنے کے تقریباً ایک ہفتے بعد تل ابیب نے غزہ کی پٹی سے دس لاکھ سے زائد باشندوں کو نکالنے کی کوشش کی ہے۔

اسرائیل سے توقع ہے کہ وہ زمین کی گنجان آباد پٹی پر حملہ کر دے گا کیونکہ وہ اپنی سرحدوں کے قریب ٹینک بڑی تعداد میں جمع کر رہا ہے۔

دھماکوں اور بندوقوں کی گولیوں سے اب تک غزہ کے 1500 سے زائد باشندے ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ اسرائیل کی جانب سے 1300 سے زائد جانیں گئیں۔ ہفتے کی صبح سویرے شروع ہونے والے اس تنازعے کے نتیجے میں ہزاروں زخمی اور دسیوں ہزار بے گھر ہو گئے جب حماس کے عسکریت پسندوں نے راکٹوں کی بوچھاڑ کی آڑ میں جنوبی اسرائیل کے قصبوں اور کمیونٹیز پر حملہ کر دیا جو ملک پر عشروں میں کیا گیا مہلک ترین حملہ ہے۔

اسرائیل نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے حماس کے زیرِ قبضہ غزہ کی پٹی پر شدید فضائی حملے کیے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں