انٹیلیجنس غلطیوں کی وجہ سے ہم نے حماس حملے سے متعلق غلط اندازے لگائے: اسرائیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اعلیٰ اسرائیلی عہدیدار نے اپنے انٹیلیجنس اداروں کے جائزوں میں ’فاش غلطیوں‘ کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی وجہ سے ہی اسلامی تحریک مزاحمت [حماس] کو غیر معمولی حملے کا موقع ملا۔

اسرائیلی قومی سلامتی کے مشیر زاچی ہنگبی نے صحافیوں سے گفتگو کے دوران ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ حماس کے حملے کی امید نہ تھی۔ ان کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے صحافی نے پوچھا تو زاچی ہنگبی گویا ہوئے ’’کہ یہ میری غلطی تھی اس میں انٹیلیجنس معلومات کا جائزہ لینے والوں کی غلطیوں کا بھی عکس نظر آتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’’سمجھتے تھے کہ حماس نے 2021 کی اسرائیل کے خلاف جنگ میں کچھ سبق حاصل کر لیا ہو گا۔

ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل غزہ سے حملہ روکنے کی ذمہ داری ادا کرنے میں ناکام رہا، جس کی وجہ سے ہمیں ایک دردناک چوٹ لگی۔ سکیورٹی ایڈوائز کے بقول کہ اب ہماری امید ایک شدید ردعمل سے جڑی ہوئی ہے تاکہ حماس کا غزہ سے صفایا کیا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ اسرائیل کی کوشش ہے کہ لڑائی دو محاذوں تک نہ پھیلے، انہوں نے امید ظاہر کی کہ حزب اللہ لبنان کی تباہی کا ایک مرتبہ پھر باعث نہ بنے۔

فلسطین کی وزارت صحت نے ہفتے کو کہا ہے کہ غزہ پر اسرائیلی حملوں میں کم از کم 2215 افراد جان سے جا چکے ہیں جب کہ 8714 زخمی ہوئے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق حماس کے زیر کنٹرول فلسطینی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ جان سے جانے والوں میں 724 بچے اور 458 خواتین ہیں۔

وزارت صحت نے مزید کہا کہ گذشتہ 24 گھنٹے میں غزہ کی پٹی پر اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں کم از کم 324 افراد کی جان گئی۔

سات اکتوبر کو حماس کی جانب سے اسرائیلی علاقوں میں آپریشن ’طوفان الاقصیٰ‘ کے آغاز کے بعد سے اسرائیل نے فلسطینی علاقوں میں کارروائیوں کا آغاز کر رکھا ہے، جس کے دوران رہائشی علاقوں سمیت حماس کے ٹھکانوں کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے جبکہ غزہ کے رہائشیوں کو انخلا کی وارننگ بھی دی جاچکی ہے جس کے بعد سینکڑوں شہریوں نے نقل مکانی کی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں