غزہ میں 1300 سے زائد عمارتیں تباہ: اقوام متحدہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

اقوام متحدہ نے ہفتے کے روز کہا کہ اسرائیلی افواج کی جانب سے تقریباً ایک ہفتے کی شدید بمباری کے بعد غزہ کی پٹی میں 1,300 سے زائد عمارتیں تباہ ہو چکی ہیں۔

اقوام متحدہ کے انسانی ہمدردی کے ادارے او سی ایچ اے نے کہا کہ ان عمارتوں میں موجود "5,540 رہائشی یونٹس" تباہ ہو گئے اور تقریباً 3,750 مزید مکانات کو اس قدر نقصان پہنچا کہ وہ قابلِ رہائش نہیں رہے۔

وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے کہا ہے کہ بمباری "صرف آغاز" ہے کیونکہ اسرائیل حماس کے خلاف جوابی کارروائی کرنے کا خواہش مند ہے جب ایک ہفتہ قبل ان کے جنگجوؤں نے 1,300 سے زیادہ افراد کو ہلاک کر دیا تھا۔

فلسطینی وزارتِ صحت نے بتایا کہ گنجان آباد انکلیو پر میزائل حملوں میں کم از کم 1,900 غزہ کے باشندے - جن میں زیادہ تر عام شہری اور 600 سے زیادہ بچے شامل ہیں – ہلاک ہو گئے ہیں۔

او سی ایچ اے نے کہا، "غزہ کی وزارتِ تعمیراتِ عامہ کے مطابق 1,324 رہائشی اور غیر رہائشی عمارات جن میں 5,540 رہائشی یونٹس شامل ہیں، تباہ ہو چکے ہیں۔"

"مزید 3,743 رہائشی یونٹس کو نقصان پہنچا ہے جو مرمت کے قابل نہیں ہے اور وہ ناقابلِ رہائش ہو گئے ہیں۔"

او سی ایچ اے نے کہا کہ مزید 55,000 ہاؤسنگ یونٹس کو جزوی طور پر نقصان پہنچا ہے۔

اقوامِ متحدہ غزہ کی پٹی کے اندر گھروں سے بے گھر ہونے والے لوگوں کی تعداد پر نظر رکھے ہوئے ہے جو جمعرات کے آخر تک 423,000 سے زیادہ ریکارڈ کی گئی۔

اس کے بعد اسرائیل نے متنبہ کیا کہ متوقع زمینی حملے سے پہلے انکلیو کے شمال میں تقریباً 1.1 ملین افراد کو فوری طور پر جنوب کی طرف نقلِ مکانی کرنے کی ضرورت ہے۔

1800 جی ایم ٹی جمعے تک او سی ایچ اے نے کہا۔ "اندازہ ہے کہ دسیوں ہزار افراد فرار ہو چکے ہیں۔"

اس نے کہا، "فی الحال غزہ کی پٹی میں اندرونی طور پر بے گھر ہونے والے افراد کی درست گنجائش معلوم نہیں ہے۔"

فلسطینی وزارتِ صحت کا حوالہ دیتے ہوئے اس نے کہا کہ "شمال سے نقلِ مکانی کرنے والوں کی گاڑیوں کو نشانہ بنایا گیا جس سے 40 سے زائد افراد ہلاک اور 150 زخمی ہوئے۔"

"ان واقعات نے بہت سے لوگوں کو انخلاء کی کوششوں کو ترک کرنے اور گھروں کو لوٹنے پر آمادہ کیا۔"

"ابتدائی طور پر لوگوں کو جنوب کی طرف جانے کے احکامات کی بحفاظت تعمیل کرنے کے لیے کوئی محفوظ راہداری فراہم نہیں کی گئی۔ خاندانوں سمیت سینکڑوں لوگوں کو پیدل بھاگنا پڑا۔"

او سی ایچ اے نے کہا کہ غزہ کی پٹی میں زیادہ تر لوگ اب پینے کے صاف پانی تک رسائی سے محروم ہیں۔

"آخری حربے کے طور پر لوگ زرعی کنوؤں کا کھارا پانی استعمال کر رہے ہیں جس سے پانی سے پیدا ہونے والی بیماریوں کے پھیلاؤ کے سنگین خدشات پیدا ہو رہے ہیں۔"

او سی ایچ اے نے کہا کہ دشمنی کے آغاز سے لے کر اب تک پانی کے چھے کنووں، تین واٹر پمپنگ اسٹیشن، ایک آبی ذخیرے، اور 1,100,000 سے زیادہ لوگوں کے لیے پانی کو صاف کرنے والے ایک پلانٹ کو فضائی حملوں سے نقصان پہنچا ہے۔

اس نے کہا کہ بجلی کی مکمل بندش نے صحت، پانی اور صفائی کی ضروری خدمات کو "تباہی دہانے پر پہنچا دیا ہے" اور خوراک کے عدم تحفظ کو بدتر کر دیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں