فلسطین اسرائیل تنازع

اسرائیل کی غزہ میں حماس کی سرنگوں پر نظریں، قیدیوں کو کہاں چھپایا گیا ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ حماس کے جنگجوؤں نے 7 اکتوبر کو اسرائیل پر اچانک حملہ کرتے ہوئے 120 کے قریب قیدیوں کو حراست میں لے لیا اور 1300 سے زائد افراد کو گولیاں مار کر ہلاک کر دیا، جن میں عام شہری بھی شامل تھے۔

اتوار کو اسرائیلی فوج کے ایک ترجمان نے ’سی این این‘ کو بتایا کہ "فوج ممکنہ طور پر یہ سمجھتی ہے کہ یرغمالیوں کو غزہ کے اندر زیر زمین سرنگوں میں رکھا گیا ہے"۔ انہوں نے مزید کہا کہ "ہم جانتے ہیں کہ سرنگوں کی وجہ سے غزہ میں کوئی بھی زمینی کارروائی پیچیدہ ہوگی"۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ جیسے ہی شہریوں کی پٹی کے شمالی علاقے سے نکل جانے کی تصدیق کی جائے گی اسرائیل غزہ میں "بڑی فوجی کارروائی" شروع کر دے گا۔

لیکن سوال یہ ہے کہ ہم غزہ کے اندر قیدیوں کے بارے میں کیا جانتے ہیں اور ان کی رہائی کے لیے کیا کوششیں کی جا رہی ہیں؟۔

کیا ان کے زندہ ہونے کا ثبوت ہے؟

ایک ہفتے کی غیر یقینی صورتحال کے بعد اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ حماس نے کم از کم 120 افراد کو یرغمال بنا رکھا ہے، جن میں عام شہری اور فوجی شامل ہیں۔ اندازہ لگایا گیا ہے کہ ان کی تعداد 150 تک پہنچ سکتی ہے، تاہم یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ آیا وہ زندہ ہیں یا مرچکے ہیں؟۔

قیدیوں میں اسرائیلی فوجی، خواتین، بچے اور بوڑھے افراد کے علاوہ غیر ملکی کارکنان اور دوہری شہریت کے حامل افراد بھی شامل ہیں۔

اغوا کے شواہد حماس کی طرف سے لی گئی تصاویر اور حملے کے دوران اور بعد میں شائع کیے گئے ہیں۔

کچھ اسرائیلی فونز سے موصول ہونے والے ڈیٹا سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ فلسطینی علاقوں میں تھے۔

حماس نے شہری اہداف پر کسی بھی غیر اعلانیہ اسرائیلی حملوں کے جواب میں قیدیوں کو قتل کرنے کی دھمکی دی تھی۔ حماس نے کہا ہے کہ جنگی قیدی بنائے گئے اسرائیلیوں میں سے 22 غزہ کی پٹی پر اسرائیلی بمباری میں مارے گئے، حالانکہ ابھی تک اس کی تصدیق نہیں کی جا سکتی ہے۔

گذشتہ ہفتے سے غزہ پر اسرائیلی حملوں میں 2200 سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔

اسرائیل بحران سے کیسے نمٹ رہا ہے؟

اسرائیلی حکومت نے بدعنوانی کے اسکینڈل میں ملوث ایک سابق جنرل گال ہرش کو قیدیوں کے بحران سے نمٹنے کے لیے مقرر کیا ہے، تاہم ماہرین نے اس تقرری کی مذمت کی ہے۔

قیدیوں میں متعدد امریکی شہریوں کی موجودگی کی وجہ سے یہ فائل بھی ایف بی آئی کے ایک مذاکرات کار کے زیر انتظام ہے۔

زمین پر اسرائیلی فورسز نے جمعہ کی شام غزہ کی پٹی میں "قیدیوں کے مقام کا تعین کرنے کے لیے شواہد کی تلاش میں" چھاپے مارے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا وہ زندہ ہیں یا مردہ؟۔

خیال کیا جاتا ہے کہ ایلیٹ اسرائیلی کمانڈو یونٹ سیرت متکال ان قیدیوں کو رہا کرنے کے لیے کسی بھی قسم کی دراندازی کو انجام دینے کے لیے بہترین پوزیشن میں ہے۔

تاہم فوجیوں کو ان کا پتہ لگانے میں ایک مشکل کام کا سامنا کرنا پڑے گا، کیونکہ حماس کو غیر مرکزیت والے سیلوں کا نظام چلانے کے لیے جانا جاتا ہے۔

سنہ2011ء میں اسرائیلی فوجی گیلاد شالیت کی رہائی کے لیے کام کرنے والے مذاکرات کار گیرشون باسکن نے کہا کہ" کسی بھی گرفتار اسرائیلی کو سرحد پر ہمارے حوالے کرنے والے حماس کے کسی بھی جنگجو کے لیے عام معافی کی ضمانت ہونی چاہیے اور اسے مغربی کنارے میں داخل ہونے کی اجازت ہونی چاہیے"۔

کیا ان کی بازیابی کے لیے بین الاقوامی کوششیں ہو رہی ہیں؟

قیدیوں کی رہائی کے لیے کسی بین الاقوامی کوششوں کے بارے میں ابھی تک کوئی خبر نہیں ہے۔

مصر کی ممکنہ ثالثی کے علاوہ اسرائیل اور حماس کے درمیان ایک باقاعدہ مذاکرات کار ترک صدر رجب طیب ایردوآن اور ریڈ کراس کی بین الاقوامی کمیٹی کا کہنا ہے کہ وہ حماس کے ساتھ بات چیت کر رہے ہیں۔

ریڈ کراس کی بین الاقوامی کمیٹی برائے مشرق وسطیٰ ومشرق قریب کے علاقائی ڈائریکٹر فیبریزیو کاربون نے جمعرات کو کہا تھا کہ "ایک غیر جانبدار ثالث کے طور پر ہم انسانی ہمدردی کی بنیاد پر دورے کرنے، قیدیوں اور ان کے خاندان کے افراد کے درمیان رابطے میں سہولت فراہم کرنے اور سہولت فراہم کرنے کے لیے تیار ہیں"۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں