اسرائیل اور حماس کی عسکری پاور اور اسلحہ کے اخراجات میں کتنا فرق ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
7 منٹس read

دنیا کی نظریں اس وقت غزہ کی پٹی پر اسرائیل کی ممکنہ زمینی کارروائی پر لگی ہوئی ہیں۔

اسرائیلی فوج کے تین سینیر افسروں نے اتوار کے روز ’نیویارک ٹائمز‘ کو بتایا کہ غزہ میں زمینی دراندازی ہفتے کے شروع میں ہونا تھی لیکن اسے چند دن کے لیے ملتوی کردیا گیا ہے۔

امریکا نے خطے میں طیارہ بردار بحری جہاز اور ٹینکوں کا ایک گروپ تعینات کر دیا ہے۔ ایک اور گروپ اس ہفتے کے آخر میں اسرائیل کی طرف روانہ ہوا ہے۔ امریکا کی طرف سے اسرائیل کے لیے فراہم کی جانے والی کمک غزہ جنگ کے وسیع تنازع میں بدلنے کا اشارہ دیتی ہے۔

اسرائیل کے پاس کون سے ہتھیار ہیں؟

اسرائیل کو طویل عرصے سے امریکا کی فوجی اور دفاعی معاونت حاصل ہے، جس میں کانگریس کی طرف سے 3.3 ارب ڈالر کی سالانہ فنڈنگ کی اجازت دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ میزائل سے متعلق ٹیکنالوجی کے لیے مزید 500 ملین ڈالر کی فوجی امداد اسرائیل کو دی جاتی ہے۔

اسرائیل کا شمار خطے کے بہترین اسلحے سے لیس ملکوں میں ہوتا ہے۔ اس کی فضائیہ میں جدید امریکی F-35 طیارے، میزائل دفاعی بیٹریاں، امریکی ساختہ پیٹریاٹ میزائل اور آئرن ڈوم سسٹم شامل ہے۔

"F-35 طیارہ"

لاک ہیڈ مارٹن کے تیار کردہ F-35 طیارے ایسی ٹیکنالوجی استعمال کی گئی ہے جو ریڈار اور دفاعی نظام کے پاس سے بنا پتا چلائے پرواز کر سکتی ہے۔ ہوائی جہاز اپنے میزائلوں کو ان اہداف پر چلا سکتا ہے جن کی نشاندہی اس نے فضا میں کی ہو۔ اس طرح یہ جہاز گائیڈڈ میزایل سے لیس ہو کر ریڈار میں آئے بغیر حملہ کرسکتا ہے۔

اپنے آغاز کے دوران F-35 پروگرام کو تاخیر اور بھاری اخراجات کا سامنا کرنا پڑا۔ امریکا کی طے شدہ تاریخ کو 7 سال پیچھے دھکیل دیا گیا اور اس کی لاگت بجٹ سے 70 فیصد بڑھ گئی۔ ایریزونا ریپبلک نے 2014 میں رپورٹ کیا کہ اسرائیل نے ان کی خریداری کے لیے 131.9 ملین ڈالر کا آرڈر دیا۔

ستمبر میں جاری سرکاری احتسابی دفتر کی رپورٹ کے مطابق پینٹاگان آنے والی دہائیوں میں تقریباً 2,500 F-35 طیاروں پر 1.7 ٹریلین ڈالر خرچ کرے گا۔

اس پروگرام کو دیکھ بھال کے شدید مسائل، فوجی سروس ڈپو میں تاخیر، اور جنگی طیاروں کے لیے سازوسامان کے ناکافی اخراجات کا سامنا کرنا پڑا۔

اکیلے F-35 کے ہیلمٹ کی قیمت 2015 میں تقریباً چار لاکھ ڈالر تھی جو F-16 ہیلمٹ کی قیمت سے چار گنا زیادہ تھی۔ 2015 میں ہیلمٹ کی قیمت کم از کم $1 بلین تک پہنچنے کی امید تھی۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے 2016 میں (یعنی صدر بننے سے پہلے) ٹویٹ کیا تھا کہ "F-35 پروگرام کی لاگت قابو سے باہر ہے۔ انہوں نے وعدہ کیا تھا کہ وہ اقتدار سنبھالنے کے بعد اس کے اخراجات کم کر دیں گے۔

"آئرن ڈوم "

ماہرین نے حماس کی طرف سے غزہ کی پٹی کے اطراف میں واقع قصبوں اور رہائشی کمیونٹیز پر غزہ سے 7 اکتوبر کو صبح سویرے اچانک حملے شروع کیے جانے اور اسرائیلی فضائی دفاعی نظام (آئرن ڈوم) کے اچانک حملے کو حیران کن قرار دیا تھا۔ اسرائیلی فوج کے مطابق آئرن ڈوم کی فلسطینی راکٹ روکنے کی شرح رح تقریباً 90 فیصد بتائی گئی ہے۔

اس کی پہلی جنگ اپریل 2011 میں ہوئی تھی جب اس نے غزہ سے اسرائیلی شہر اشکلون پر داغے گئے گراڈ راکٹ کو مار گرایا تھا۔

حساس ریڈار 4 سے 70 کلومیٹر (2.5 سے 43 میل) کے فاصلے سے آنے والے شاٹس کا پتہ لگاتا ہے۔ ان کی رفتار اور نقطہ اثر کی پیش گوئی کرتا ہے۔ کنٹرول سینٹر اس معلومات پر کارروائی کرتا ہے۔

بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی انسٹی ٹیوٹ فار نیشنل سکیورٹی اسٹڈیز کے ایک محقق کے مطابق ہر میزائل کی قیمت تقریباً 40،000 سے 50،000 ڈالر ہے۔

امریکی ملٹری کنٹریکٹنگ کمپنی ریتھیون ٹیکنالوجیز کے مطابق 2021ء کے وسط تک اسرائیل کے پاس ملک بھر میں دس موبائل بیٹریاں تعینات تھیں، جس نے 2014 میں سسٹم کے خالق اسرائیلی رافیل ایڈوانسڈ ڈیفنس سسٹمز کے ساتھ آئرن ڈوم کی مشترکہ پیداوار شروع کی تھی۔

ریتھیون ٹیکنالوجیز کے مطابق ہر بیٹری میں تین سے چار لانچرز ہوتے ہیں جن کا مقصد 155 مربع کلومیٹر (60 مربع میل) کے آبادی والے علاقے کا دفاع کرنا ہے۔

آئرن ڈوم اصل میں امریکی مدد کے بغیر تیار کیا گیا تھا، لیکن 2011ء میں اسرائیل کے اہم اتحادی نے اس پروگرام کی مالی مدد شروع کی۔ ایک بار جب امریکا نے آئرن ڈوم پراجیکٹ میں سرمایہ کاری کی۔

امریکا میں کچھ اینٹی میزائل بیٹریاں تیار کی جاتی ہیں۔ حکومت کے لیے امریکی حمایت اسرائیل کے لیے امریکی فوجی امداد کے ایک بڑے پیکج کا حصہ ہے، جس کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان 2019 سے 2028 تک کے سالوں میں مجموعی طور پر 38 ارب ڈالر کی امداد ہوگی۔

"فوج"

انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ فار اسٹریٹجک اسٹڈیز کے مطابق اسرائیل کے تقریباً 170,000 فوجی فعال ڈیوٹی پر ہیں۔ اس نے جنگ کے لیے تقریباً 360,000 ریزروسٹوں کو بلایا ہے جو اس کی تخمینہ صلاحیت کا تین چوتھائی ہے۔

اسرائیل کے پاس موبائل بکتر بند جہاز اور ٹینک، ڈرونز کا بیڑا اور دیگر ٹیکنالوجی بھی ہے۔

حماس کے پاس کون سے ہتھیار ہیں؟

بہت سے مغربی اخبارات نے حماس کے عسکریت پسندوں کے اسرائیل پر اچانک حملے کے دوران استعمال ہونے والے ہتھیاروں کی شناخت کے لیے ان کی تصاویر اور ویڈیوز کا تجزیہ کیا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ بہت سے ہتھیار روسی یا چینی آتشیں اسلحے میں ترمیم شدہ دکھائی دیتے ہیں۔ خیال ہے کہ گذشتہ دہائیوں میں میدان جنگ میں رہ جانے والا اسلحہ بالآخر حماس تک پہنچ گیا۔

سب سے قابل ذکر نتائج میں سے یہ تھا کہ حماس کے پاس ڈرون کے علاوہ میزائل، ایک ترمیم شدہ AK-47 اور سوویت دور کی مشین گنیں ہیں۔

انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ فار اسٹریٹجک اسٹڈیز کے اندازوں کے مطابق حماس کے پاس 15 سے 20 ہزار جنگجو بھی ہیں۔

گلوبل نیوز کی رپورٹ کے مطابق حماس کے ہتھیاروں میں اسالٹ رائفلیں اور بھاری مشین گنیں شامل ہیں۔

رائیٹرز کی رپورٹ کے مطابق حماس کے ایک سینیر اہلکار علی برکہ نے کہا کہ 2008 کی غزہ جنگ میں حماس کے راکٹوں کی زیادہ سے زیادہ رینج 40 کلومیٹر (25 میل) تھی لیکن 2021 تک یہ بڑھ کر 230 کلومیٹر ہو گئی۔

امریکی ریسرچ یونیورسٹی کولوراڈو بولڈر کی رپورٹ کے مطابق حماس کی جانب سے داغے جانے والے راکٹوں کی قیمت تقریباً 600 ڈالر ہے اور اس لیے وہ اسرائیل کے آئرن ڈوم میزائلوں کی قیمت سے تقریباً 100 گنا کم ہیں۔

اسرائیل کی اپنے تمام انٹرسیپٹر میزائل لانچ کرنے کی کل لاگت تقریباً 48 ملین ڈالر ہے۔ اسرائیل کے پاس کم از کم 10 آئرن ڈوم بیٹریاں ہیں جن میں سے ہر ایک میں 60 سے 80 انٹرسیپٹر میزائل ہیں۔ اس لیے اگر حماس نے 5000 راکٹ فائر کیے تو اس کی قیمت صرف 3 ملین ڈالر ہوگی۔

مقبول خبریں اہم خبریں