اسرائیل میں امریکی شہریوں کی بحری جہاز پر قبرص کے راستے وطن واپسی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘کے نامہ نگاروں کے مطابق آج سوموار کو امریکی شہریوں کا ایک قافلہ بحری جہاز پر حیفا کی بندرگاہ سے قبرص کے لیے روانہ ہوا۔

امریکی سفارتخانے نے کل اتوار کو ایک سکیورٹی الرٹ میں کہا تھا کہ سلامتی کی صورتحال اور غزہ کی پٹی میں ایک بڑے فوجی آپریشن کی تیاری کے بعد امریکی شہریوں اور ان کے خاندانوں کو جن کے پاس درست سفری دستاویزات ہیں کو حیفا سے قبرص کے ساحلی شہر لیماسول منتقل کرنے کی ضرورت ہے۔

امریکی شہریوں کی منتقلی اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ کے نتیجے میں ہوئی ہے جو 7 اکتوبر کو حماس کی جانب سے اسرائیل کے اندر سرحدی قصبوں پر اچانک کارروائی شروع کرنے کے بعد ہو رہی ہے۔

آج صبح، تقریباً 250 امریکی شہری حیفا بندرگاہ کے سامنے جمع ہوئے جہاں سے وہ اپنے بیگ اور سامان لے کر اسرائیل سے قبرص کے لیے روانہ ہوئے۔

امریکی شہری جن میں بچے بھی شامل تھےاسرائیل کے شمال میں واقع شہر کی بندرگاہ پر مختلف سائز کے تھیلے دھکیلتے اور دوسروں کو اپنی پیٹھ یا کندھوں پر اٹھائے جوق در جوق پہنچ رہے تھے۔

سرخ اور سفید جیکٹس پہنے امریکی سفارت خانے کے عملے کے ارکان آپریشن کو منظم کرنے کے لیے کام کر رہے تھے۔

سفارت خانے کے ملازمین میں سے ایک نے اونچی آواز میں شہریوں کو اپنے ناموں کا آن لائن اندراج کروانے اور اس کی تصدیق حاصل کرنے کے لیے کہا۔

خواتین اور ان کے بچے ناموں کی تصدیق کے انتظار میں زمین پر بیٹھ گئے جب کہ بندرگاہ پر موجود کچھ کارکنوں نے ناموں کا اندراج کیا اور بیگ وصول کیے۔ انہیں صرف ایک بیگ ساتھ لے جانے کی اجازت تھی۔

سفارت خانے کے حکام کا کہنا ہے کہ حکام اسرائیل سے باہر ان کی نقل و حمل کو محفوظ بنانے" کے لیے خصوصی طور پر ذمہ دار ہے۔انہیں قبرص پہنچانے کی ذمہ داری سفارت خانے کی ہے تاہم اس کے بعد امریکی شہریوں کو قبرص کے ہوٹلوں میں اپنے قیام کا انتظام خود کرنا پڑے گا۔

خیال رہے کہ سات اکتوبر سے غزہ کی پٹی پر جاری اسرائیلی فوجی کارروائیوں میں تین ہزار سے زائد فلسطینی شہید اور ہزاروں کی تعداد میں زخمی ہوئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں