بدقسمت فلسطینی ماں جو شیرخوار بیٹی کی شہادت سے پہلے اسے دودھ بھی نہ دے سکی

غزہ میں اسرائیلی بمباری میں ہر طرف المیے کی داستانیں، کئی پورے کےپورے خاندان ختم ہوچکے۔

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

غزہ کی پٹی میں گذشتہ دس روز سے اسرائیل کی طرف سے بپا کی گئی قیامت کے نیتجےمیں ہر طرف المیہ اور تباہی کی داستانیں بکھری ہوئی ہیں۔

مسلسل ہونے والی وحشیانہ بمباری کے نتیجے میں بڑی تعداد میں خواتین اور بچے مارے جا رہے ہیں۔

غزہ میں تباہی کے مناظر پرمشتمل ویڈیوز سوشل میڈیا پر تیزی سے پھیل رہی ہیں۔

ان المنارک مناظر میں ایک ویڈیو میں ایک ایسی ماں کو دکھایا گیا جس نے غزہ کے ایک ہسپتال میں روتے ہوئے بمباری میں اپنے دو بچوں کو کھو دیا۔

ماں اپنے بڑے بیٹے کے جسد خاکی کے ساتھ نمودار ہوئی۔ اس کے بعد روتے ہوئے گلے لگا لیا۔ اس نے بعد وہ اپنی چھوٹی بیٹی کی لاش کی طرف بڑھی۔ اس کا خیال تھا کہ بچی زندہ ہے۔ وہ اسے دودھ پلانے کے لیےآگے بڑھی اوراسے بیدار کرنےلگی،مگر وہ ہمیشہ کے لیے سوچ چکی تھی۔

جب اسے اندازہ ہوا کہ بچی بھی شہید ہوچکی ہےتو وہ صدمے سے نڈھال ہوگئی۔ اس کی زبان سے ایک ہی بات جاری تھی’ میری بچی کو اٹھاؤ’۔

پھر دونوں لاشوں کو ایک ساتھ رکھا گیا۔ پھر ہسپتال انتظامیہ نے ان کی تفصیلات کا اندراج کرایا۔ جس کے بعد دونوں ننھے شہیدوں کے جسد خاکی تدفین کے لیے وہاں سے منتقل کیے گئے۔

غزہ میں وزارت صحت نے آج پیر کو 7 اکتوبر سے جاری اسرائیلی بمباری سے تقریبا 2750 افراد کی شہادت کا اعلان کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں