مشرق وسطیٰ

جنگ بندی کی افواہیں غلط ہیں، غزہ کے محصورین کے لیے کوئی امداد نہیں: نیتن یاھو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

پیر کے روز فلسطین اسرائیل جنگ میں شدت کے ایک نئے دن کا مشاہدہ کیا جا رہا ہے۔ اس دوران بحران اپنے دسویں دن میں داخل ہو رہا ہے۔

غزہ کے 2.3 ملین آبادی کے لیے خوراک، پانی اور تحفظ کے بڑھتے مطالبات کے جلو میں ایک طرف فلسطینیوں اور اسرائیل کے درمیان معاہدے کی افواہیں گردش کر رہی ہیں جب کہ دوسری طرف صہیونی حکومت نے کہا ہے کہ اس کا نہ تو کسی سےمعاہدہ ہوا ہے اور نہ ہی وہ غیر ملکیوں کے بدلے میں غزہ کے محصورین کے لیے امداد دینے کے لیے تیار ہے۔

سات اکتوبر سے جاری اسرائیلی کارروائیوں میں غزہ کی پٹی میں فلسطینی شہداء کی تعداد 2750 ہو گئی ہے جب کہ 9700 زخمی ہوئے ہیں۔

تازہ ترین پیش رفت میں اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے اعلان کیا کہ غزہ سے غیر ملکیوں کو نکالنے کے لیے فی الحال کوئی جنگ بندی نہیں ہے۔

نیتن یاہو کے دفتر نے مزید کہا کہ جنگ بندی نہیں ہے اور نہ ہی غیر ملکیوں کے اخراج کے بدلے غزہ میں انسانی امداد لے جانے کی اجازت ہے۔

دوسری طرف حماس کے رہ نما عزت الرشق نے مصر کے ساتھ رفح کراسنگ کھولنے یا عارضی جنگ بندی کے بارے میں کسی بھی خبر کی تردید کی ہے۔

العربیہ اور الحدث کے نامہ نگاروں نے جنوبی غزہ اور دونوں اطراف میں عارضی جنگ بندی کے معاہدے سے متعلق خبر کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ جنوبی غزہ میں غیر ملکیوں کو نکالنے اور رفح کراسنگ کے ذریعے امداد پہنچانے کے لیے پانچ گھنٹے کی جنگ بندی کی توسیع کی گئی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ جنوبی غزہ میں جنگ بندی مقامی وقت کے مطابق رات نو بجے نافذ ہوئی۔ العربیہ نامہ نگار نے مزید کہا کہ محدود جنگ بندی کے اعلان کے باوجود غزہ کی پٹی پر اسرائیلی بمباری جاری ہے جب کہ غزہ سے اسرائیل کی جانب میزائل راکٹ فائر کیے گئے۔

حماس کے میڈیا آفس نے کہا کہ اسے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر جنگ بندی کے معاہدے کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں ہے تاہم مصر کے دو سکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ جنوبی غزہ میں جنگ بندی پر امریکا، اسرائیل اور مصر کے درمیان معاہدہ طے پایا تھا جو کہ جی ایم ٹی کے مطابق صبح چھ بجے شروع ہوئی۔

دونوں ذرائع نے مزید کہا کہ جنگ بندی کئی گھنٹوں تک جاری رہے گی، تاہم اس کی صحیح مدت ابھی واضح نہیں ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ تینوں ممالک نے ابتدائی طور پر ایک دن کے لیے آج پیر کو رفح کراسنگ کھولنے پر اتفاق کیا تھا۔ تاہم اسرائیلی فوج اور اسرائیل میں امریکی سفارت خانے نے ابھی تک اس خبر کی تصدیق نہیں کی۔

صبح سویرے غزہ کی پٹی کے مختلف حصوں پر اسرائیلی فضائی حملے دوبارہ شروع ہوئے۔ فلسطینی خبر رساں ایجنسی نے کہا کہ اسرائیلی طیارے نے درجنوں مقامات پر بمباری کی۔اس دوران اسرائیلی فوج نے تل الھویٰ میں سیکڑوں ٹن بارود گرایا گیا۔

خبر رساں ایجنسی نے کہا کہ اسرائیل نے وسطی غزہ میں نصیرات کیمپ کو کئی چھاپوں کے ذریعے نشانہ بنایا۔ فلسطین ٹوڈے کی ویب سائٹ نے اطلاع دی ہے کہ آج جنوبی اور مغربی غزہ میں سول ڈیفنس کے دو ہیڈ کوارٹرز پر اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں اس کے سات افراد شہید ہو گئے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں