اسرائیل کو امریکی کمک ۔ امریکی بحری بیڑے مشرق وسطیٰ میں کیا لے کر آئے ہیں؟

آئزن ہاور کیرئیر کو پہنچنے میں آٹھ سے دس دن لگ سکتے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

اسرائیل کی غزہ کے خلاف جنگ میں مدد کو پہنچنے والے دو امریکی بحری بیڑوں کے علاوہ ان کے معاون بحری جہاز بھی شامل ہیں۔

جدید طیاروں ۔ میزائل سسٹم اور جوہری ری ایکٹر سے لیس یہ امریکی بحری بیڑے مشرقی بحیرہ روم میں کھڑے کیے گئے ہیں تاکہ بوقت ضرورت اسرائیل کے 'دشمن' سے نمٹ سکیں۔

بحیرہ روم پہلے ہی متعدد امریکی بحری بیڑوں کی میزبانی کرتا ہے ، مراد یہ کہ یہاں پہلے سے امریکی فوجی تعینات رہتے ہیں۔ تاہم یہ دو عظیم نوعیت کے امریکی بحری بیڑے غیر معمولی جنگی صورت حال کے لیے ہی نقل و حرکت کرتے ہیں۔

مشرقی بحیرہ روم میں تعینات کیے جانے والے دو بحری بیڑوں میں سے ایک بحری بیڑا فورڈ ہے ، اسے 2017 میں امریکی فوج کا حصہ بنایا گیا تھا۔ یہ دنیا کا سب سے بڑا بحری بیڑا ہے ۔ اس پر بیک وقت 5000 ہزار فوجی موجود ہوتے ہیں۔

فورڈ نامی اس کیرئیر پر ایک جوہری ری ایکٹر بھی موجود ہے جبکہ 75 سے زائد جنگی طیارے فورڈ کا حصہ ہوتے ہیں۔ اس پر بحیرہ روم میں پہنچائے گئے امریکی جدید ترین لڑاکا طیارے ای 2 ہاک آئی سپر ہارنیٹ جیٹ شامل ہیں۔

علاوہ ازیں ایف 18 طیارے بھی شامل ہوتے ہیں۔ یہ طیارے انتہائی وارننگ سسٹم کے طور پر کام کرنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔

ان امریکی طیاروں کو 'ایوالوڈ سی سپیرو میزائل سسٹم' سے لیس رکھا جاتا ہے۔ یہ درمیانے فاصلے تک مار کرنے والا ہتھیار ہے۔ یہ زمین سے فضا میں مار کرنے والا میزائل ہے ۔ اس کے ذریعے ڈرون اور لڑاکا طیاروں کا بھی مقابلہ کیا جاتا ہے۔

فورڈ جہاز ' ایم کے 15 فیلنکس کلوز این ویپن سستم' سے بھی لیس ہوتا ہے۔ یہ 'رولنگ ائیر فریم میزائل' اور 'اینٹی شپ' میزائلوں کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اس سے بکتر بند کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

فورڈ جدید تریین ریڈار سسٹم سے بھی لیس ہوتا ہے۔ جو فضا میں موجود ٹریفک اور نیوی گیشن کو مانیٹر کرتا ہے۔ اسی طرح فورڈ کے ساتھ گائیڈڈ میزائل سسٹم بھی موجود ہوتا ہے۔

پینٹا گون کی طرف سے آئزن ہاور کیرئیر بھی اسرائیل اور 23 لاکھ کی فلسطینی آبادی کے حامل شہر غزہ کے درمیان جنگ کے پیش نظر بھجوایا جارہا ہے۔ اس بحری بیڑے کے پہنچنے میں بتایا گیا ہے کہ ایک سے ڈیڑھ ہفتہ درکار ہوگا۔ یہ جہاز کویت پر عراقی حملے کے دنوں جنگ میں بھی حصہ لے چکا ہے۔

اسے 'آئی کے ای کیرئیر' بھی کہا جاتا ہے ۔۔ یہ جہازوں کے نو سکوارڈن تک لے جانے کی اہلیت رکھتا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ آئزن ہاور کیرئیر کے علاوہ دیگر بحری جہاز بھی موجود رہیں گے۔

کروز گائیڈڈ میزائل وغیرہ بھی اس کا حصہ ہوں گے۔ یہ کیرئیر جارحانہ کارروائیاں کرنے کے لیے بھی بروئے کار ہوتے ہیں اور دفاعی مقصد کے لیے بھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں