اسرائیل کے خاتمے تک مزاحمتی قوتیں اپنی کارروائیاں جاری رکھیں گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ایران نے اسرائیل کو دنیا کے لیے کینسر کا پھوڑا قرار دیتے ہوئے کہا ہے ' جب تک اس کے وجود کا مکمل خاتمہ نہیں ہو جائے گا اسرائیل پر حملے جاری رہیں گے۔ اس امر کا اظہار پاسداران انقلاب کے نائب کمانڈر علی فداوی نے کیا ہے ۔

اس بیان کی اہمیت کا اندازہ اس امر سے کیا جا سکتا ہے کہ یہ پاسداران انقلاب کور کی طرف سے سامنے آیا ہے جس کے بارے میں تصور ہے کہ یہ کور نہ صرف کہ 1979 کے ایرانی انقلاب کی محافظ مانی جاتی ہے بلکہ اسے سپریم لیڈر کا غیر معمولی اعتماد بھی حاصل ہوتا ہے نیز یہ ایران سے باہر ایرانی حمایت یافتہ مسلح گروپوں کی بھی سرپرستی کرنے والا ادارہ تصور کیا جاتا ہے۔

پاسداران انقلاب کے نائب کمانڈر کا یہ بیان سے ایک روز قبل ایرانی سپریم کمانڈر کا یہ بیان سامنے آیا تھا کہ اگر اسرائیل غزہ پر بمباری نہیں روکتا تو مزاحمتی گروپوں کو اسرائیل پر حملے سے روکنا مشکل ہو جائے گا۔

پاسداران کمانڈر نے کہا ' مزاحمتی قوتیں اس وقت تک اسرائیل کے خلاف اپنی کارروائیاں جاری رکھیں گی جب تک دنیا کے نقشے سے اس سرطانی پھوڑے کا خاتمہ نہیں ہوجاتا۔'

ایران عام طور پر علاقائی سطح پر سرگرم اپنی حمایت یافتہ مسلح تنظیموں کے لیے ' مزاحمتی قوتوں، مزاحمتی گروپوں اور مزاحمتی محاذ کی اصلاحات استعمال کرتا ہے۔ ' ان میں ایران کا حامی فلسطینی گروپ حماس بھی شامل ہے۔ جبکہ لبنان کی حزب اللہ وغیرہ بھی انہیں گروپوں میں شمار ہوتے ہیں۔

ایرانی پاسداران انقلاب کے نائب کمانڈر نے اسرائیل کو انتباہ کیا ۔ اگر اسرائیل نے غزہ پر حملے جاری رکھے تو اسرا ئیل کو مزید حملوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔

علی فداوی کا کہنا تھا اگر غزہ میں جرم جاری رہا تو دوسرے ممالک کے مسلمان بھی صہیونیوں کے خلاف مزاحمت کا حصہ بن جائیں گے۔ ہوسکتا ہے اسرائیل پر ایک اور حملہ راستے پر ہو یعنی کیا ہی جانے والا ہو۔

ایران کے نیم سرکاری خبر رساں ادارے نے رپورٹ کیا ' اسرائیل حالیہ دنوں ہونے والے غیر معمولی حملوں کے بعد ابھی اپنے اوسان بحال نہیں کر پایا ہے۔ یہ اسرائیل کی ایک بڑی شکست ہے جو اسے حماس سے کھانا پڑی ہے۔

علی فداوی نے اسرائل کے بارے میں کہا وہ غزہ میں سویلینز کو نشانہ بنا رہا ہے۔ کیونکہ مزاحمت کاروں کو نقصان پہنچانے میں ناکام ہو چکا ہے۔

دنیا کے مسلمان اس صورت حال کو ایک موقع کے طور پر دیکھ رہے ہیں تاکہ اسرائیل پر سات اکتوبر جیسے مزید حملے ہو سکیں۔

ادھر اسرائیل نے اپنے لاکھوں فوجی غزہ کی سرحد پر تعینات کر دیے ہیں۔ یہ تیاری اسرائیل نے غزہ پر ایک بھر پور زمینی حملے کے سلسلے میں کی ہے۔اسی سبب گیارہ لاکھ فلسطینوں کو غزہ سے نکل جانے کی دھمکی دے رکھی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں