مشرق وسطیٰ

غزہ ساحل پر میرینز اور امریکی فوج لڑائی کا دائرہ وسیع ہونے سے روکے گی!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

مشرق وسطیٰ میں امریکی فوج کے نگران جنرل مایکل ایرک کوریلا تل ابیب کا دورہ کر رہے ہیں۔ اعلیٰ ترین امریکی فوجی عہدیدار غزہ پر متوقع اسرائیلی حملے اور امریکی صدر جو بائیڈن کے تل ابیب دورے سے ایک دن پہلے آمد کو انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

اپنے غیر علانیہ دورے سے پہلے منگل کے روز رائیٹرز کے ذریعے جاری کروائے گئے ایک بیان میں جنرل مائیکل کا کہنا تھا ’’کہ وہ حماس کے خلاف تیزی اختیار کرتی ہوئے جنگ میں اسرائیلی ضروریات کا اندازہ لگانا چاہتے ہیں تاکہ ان کی بروقت فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔‘‘

جنگ کا دائرہ پھیلنے سے روکنا

ان کا مزید کہنا تھا کہ وہ اسرائیلی عہدیداروں سے اس معاملے پر بھی تبادلہ خیال کریں گے کہ جنگ کا دائرہ دوسرے علاقوں تک پھیلنے سے کیسے روکا جا سکتا ہے؟

فلسطینی شہریوں کا شمالی غزہ کی جانب انخلا جاری۔ [اے ایف پی]
فلسطینی شہریوں کا شمالی غزہ کی جانب انخلا جاری۔ [اے ایف پی]

اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ایک اعلیٰ امریکی عہدیدار نے بتایا کہ گیرالڈ فورڈ بحری بیڑے کے علاوہ ’’باتان‘‘ بحری بیڑا بھی اسرائیلی ساحل کی سمت بڑھ رہا ہے۔ اس بیڑے پر امریکی میرینز کے مہماتی یونٹس کے دو ہزار اہلکار بھی موجود ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ باتان بیڑے پر سوار امریکی میرینز کو کوئی مخصوص ذمہ داری تفویض نہیں کی گئی، تاہم اس بات کا امکان موجود ہے کہ وہ انخلا کے منصوبے میں اہم کردار ادا کریں گے۔

ایران کے لئے پیغام تسدید

امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے ایک اور فوجی ذریعے کے حوالے سے بتایا کہ امریکی میرینز کے دو ہزار اہلکار امریکہ کے لڑاکا بحری جہازوں اور فوجیوں کے ساتھ اس فورس کا حصہ ہوں گے جس کا مقصد ایران کو اس بات سے باز رہنے کا پیغام دینا ہے کہ وہ غزہ کی جنگ کو علاقائی تنازع بنانے سے گریز کرے۔

ادھر وزارت دفاع [پینٹاگان] کے عہدیداروں نے بتایا کہ امریکی فوجیوں کو طبی دیکھ بھال اور مشوروں کی ذمہ داری سونپی جائے گی۔ امریکی اخبار وال سٹریٹ جرنل کے مطابق مشرق وسطیٰ اور اس کی حدود سے باہر یورپ میں تعینات امریکی فوجی دستے اس لڑائی میں حصہ نہیں لیں گے۔

اس پیش رفت کے جلو میں اسرائیلی فوج نے سیکڑوں ٹینک اور ہزاروں فوجی حماس کے سات اکتوبر کو غزہ پر کیے جانے والے حیران حملے کے بعد علاقے کا محاصرہ کرنے کے لئے سرحد پر لگا رکھے ہیں۔ اس لڑائی میں اب تک کم سے کم 200 اسرائیلی فوجی اور ریزروسٹس سمیت 1400 اسرائیلی مارے جا چکے ہیں۔

اس لڑائی میں غزہ کی پٹی پر شدید بمباری سے کم سے کم 3000 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں جن میں ایک ہزار بچے بھی شامل ہیں۔ اس لڑائی میں بارہ ہزار فلسطینی زخمی ہوئے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں