فلسطین اسرائیل تنازع

غزہ میں المیہ : مسخ شدہ بچے، جسمانی اعضاء اور نامعلوم لاشوں کے ٹرکوں میں ڈھیر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

غزہ میں لاشوں کو دفنانے کے لیے اب کوئی جگہ نہیں ہے کیونکہ قبرستان بڑی تعداد میں قبروں سے بھر گئے ہیں۔ ہسپتالوں سے لائی گئی لاشوں کو اجتماعی قبر میں دفن کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔

فلسطینی وزارت صحت کے ملازمین نے غزہ کے الشفاء ہسپتال سے ڈھیروں لاشوں کو منتقل کیا اور انہیں ٹرکوں میں لاد کر قبرستان کی طرف روانہ کیا۔ ان لاشوں کی شناخت بھی نہیں کی جا سکی۔ کفن پر صرف ایک حوالہ نمبر درج ہے۔

وزارت صحت کے ڈائریکٹر منیر البرش نے کہا کہ انہوں نے اس طریقہ کار کا سہارا اس وقت لیا جب انہیں قائم شدہ پروٹوکول کے مطابق متاثرین کو دفنانے کے لیے ضروری ہم سہولیات نہ مل سکیں۔

باقیات میں جسم کے اعضاء اور ان بچوں کی لاشیں شامل ہیں جو اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں مسخ ہو گئے تھے۔

فلسطینی میڈیا نے بتایا ہے کہ اسرائیلی طیاروں نے پیر کو علی الصبح غزہ شہر میں القدس ہسپتال کے اطراف کے علاقوں پر بمباری کی اور فضائی حملوں کی وجہ سے ہسپتال میں ایمبولینسیں حرکت میں نہیں آسکیں۔

غزہ میں امدادی کارروائیاں تباہی کے دہانے پر:اونروا

فلسطین ریڈ کریسنٹ سوسائٹی کے مطابق ہفتے کے روز اسرائیل نے ہسپتال کو انخلاء کی وارننگ دی، مگر وہ بیمار اور زخمیوں کو سہولت سے باہر منتقل نہیں کر سکتا۔

فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی برائے مشرق وسطیٰ (اونروا) کے کمشنر جنرل فلپ لازارینی نے کہا کہ غزہ میں اقوام متحدہ کی امدادی کارروائیاں "تباہی کے دہانے پر ہیں۔"

انہوں نے مزید کہا کہ "ہمارے اسکولوں اور جنوب میں اونروا کی دیگر سہولیات میں پناہ لینے والے لوگوں کی تعداد بہت زیادہ ہے، اور ہمارے پاس اب ان سے نمٹنے کی صلاحیت نہیں ہے۔"

غزہ میں وزارت صحت نے پیر کو اعلان کیا کہ غزہ کی پٹی پر جاری اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد 2,837 ہو گئی ہے جب کہ زخمیوں کی تعداد 10,000 سے تجاوز کر گئی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں