مکہ مکرمہ میں طلباء میں وبا پھیلنے کی حقیقت کیا ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

مکہ مکرمہ کے اسکولوں میں طلباء میں ٹائیفائیڈ پھیلنے کی افواہوں کے بعد مکہ ہیلتھ کونسل کے سرکاری ترجمان حاتم المسعودی نے اس بیماری کے پھیلاؤ کے بارے میں سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی باتوں کی تردید کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ شہر کے اسکولوں میں ٹائیفائیڈ کا کوئی کیس سامنے نہیں آیا۔

انہوں نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ مکہ مکرمہ کے اسکولوں میں دریافت ہونے والے کچھ کیسز ایسے تھے جن کی تشخیص "ہاتھ، پاؤں اور منہ کے سنڈروم" کے طور پر کی گئی تھی، جو کہ ایک ہلکا وائرل انفیکشن ہے جو بچوں میں عام ہے اور یہ تشویشناک نہیں ہے۔

یہ موسمی انفیکشن ہے جو ایسےاوقات میں ہر سال ظاہر ہوتا ہے۔اس سے بچاؤ کے لیے درد کش ادویات اور بخار کم کرنے والی ادویات کے سوا کسی چیز کی ضرورت نہیں ہوتی۔

انہوں نے مزید کہا کہ پبلک ہیلتھ اینڈ پریونٹیو میڈیسن کے ایگزیکٹو ڈپارٹمنٹ میں وبائی امراض کی تحقیقات میں صرف 7 الگ الگ کیسز سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ بالکل بھی تشویش کا باعث نہیں ہیں۔

المسعودی نے زور دے کر کہا کہ مکہ مکرمہ ریجن میں محکمہ تعلیم کے ساتھ مکہ مکرمہ کے تمام اسکولوں میں متعدد صحت اور احتیاطی تدابیر اختیار کی گئی ہیں تاکہ طلباء اور عملے کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں