یرغمالیوں کی تعداد 250 کےدرمیان ہے، اسرائیلی زمینی حملے سے خوف زدہ نہیں: القسام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

حماس کے عسکری ونگ عزالدین القسام بریگیڈز نے اعلان کیا ہے کہ وہ غزہ کی پٹی میں داخل ہونے والی کسی بھی فوجی قوت سے نمٹنے کے لیے تیار ہے۔ اس کا اشارہ اسرائیلی فوج کی ممکنہ زمینی کارروائی کی طرف تھا جس کی اسرائیلی فوج کئی روز سے تیاری کر رہی ہے۔

القسام بریگیڈز نے غزہ کی پٹی پر اسرائیلی بمباری کے دوران 22 قیدیوں کی ہلاکت کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ان کے قیدیوں کی تعداد 200 سے 250 کے درمیان ہے۔

القسام بریگیڈزنے کہا کہ اس کے پاس مختلف ملکوں کے قیدی ہیں اور ان کے ساتھ مہمانوں جیسا سلوک کیا جاتا ہے۔ جب حالات اجازت دیں گے تو وہ انہیں رہا کر دیں گے۔

القسام بریگیڈ کے ترجمان ابو عبیدہ نے کہا کہ "قابض اسرائیل کی طرف سے ہمارے لوگوں کے خلاف زمینی جارحیت شروع کرنے کی دھمکی ہمیں خوفزدہ نہیں کرے گی اور ہم اس کے لیے تیار ہیں۔"

انہوں نے مزید کہا کہ"ہم دشمن سے کہتے ہیں کہ آپ کا ہمارے علاقوں میں داخلہ ایک نیا موقع ہوگا کہ آپ ہمارے خلاف جو کچھ کررہے ہیں اس کے لیے آپ کو سخت جوابدہ ٹھہرایا جائے۔"

انہوں نے مزید کہا کہ "غزہ میں القسام بریگیڈ کے پاس قابض فوجیوں اور آباد کاروں کے تقریباً 200 کے لگ بھگ ہے۔ کل قیدیوں کی کل تعداد 250 ہے۔ انہیں غزہ میں مختلف علاقوں میں رکھا گیا ہے۔

ابو عبیدہ نے وضاحت کی کہ آپریشن کے دوران "ہمارے پاس مختلف ملکوں کے زیر حراست افراد کا ایک گروپ ہے جن کی شناخت کی ہم تصدیق نہیں کر سکتے"۔ وہ ہمارے مہمان ہیں اور ہمیں امید ہے کہ جب میدانی حالات اجازت دیں گے تو انہیں رہا کر دیا جائے گا"۔

انہوں نے امید بھی ظاہر کی کہ غیر ملکی زیر حراست افراد "محفوظ" رہیں گے۔

انہوں نے بتایا کہ اسرائیلی بمباری میں 22 قیدی مارے گئے، جن میں "اسرائیلی فنکار گائے اولیور شامل ہے جوتل ابیب کا رہائشی تھا۔"

اسرائیلی فوج نے کل سوموار کو دعویٰ کیا تھا کہ حماس کے پاس جنگی قیدی بنائے گئے یرغمالیوں کی تعداد 199 ہے۔

اسرائیلی فوج کے ترجمان ڈینیئل ہاگری نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ ہم نے 199 مغویوں کے اہل خانہ کو مطلع کر دیا ہے۔

اسرائیل نے گذشتہ اتوار کو غزہ کی پٹی پر جنگ کا اعلان کیا۔ اسرائیل کی طرف سے یہ اعلان جنگ حماس کے سرحد پار حملے کے بعد کیا گیا جس میں ڈیڑھ ہزار اسرائیلی ہلاک ہوچکے ہیں۔

فلسطینی وزارت صحت کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق 7 اکتوبر کے بعد سے مسلسل بمباری کے نتیجے میں پورے پورے محلے ملبے کا ڈھیر بن گئے ہیں۔ اسرائیلی فوج کی وحشیانہ بمباری کے نتیجے میں کم از کم 2,750 افراد شہید اور 9,700 زخمی ہوچکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں