حماس اسرائیل تنازع میں کوئی ہیرو نہیں، صرف متاثرین ہیں: سابق سعودی انٹیلی جنس چیف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

سعودی عرب کے سابق انٹیلی جنس چیف کا کہنا ہے کہ شہریوں کے خلاف کارروائیوں کی وجہ سے اسرائیل اور حماس کی مذمت ہونی چاہیے لیکن انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ فلسطینیوں کو اسرائیل کے فوجی قبضے کے خلاف مزاحمت کا حق حاصل ہے۔

شہزادہ ترکی الفیصل نے "حماس کی جانب سے کسی بھی عمر یا جنس کے شہری اہداف کو نشانہ بنانے کی مذمت کی جیسا کہ اس پر الزام ہے" اور کہا کہ یہ کارروائیاں شہریوں کو نقصان پہنچانے اور عبادت گاہوں کی بے حرمتی کے بارے میں اسلامی احکامات کے خلاف ہیں۔

"لیکن میں غزہ میں معصوم فلسطینی شہریوں پر اسرائیل کی اندھا دھند بمباری اور انہیں زبردستی سیناء میں بھگانے کی کوشش کی برابر مذمت کرتا ہوں۔"

شہزادہ ترکی نے منگل کو ہیوسٹن میں رائس یونیورسٹی کے بیکر انسٹی ٹیوٹ فار پبلک پالیسی میں ایک اجتماع کو بتایا۔ "اس تنازعہ میں کوئی ہیرو نہیں۔ صرف متاثرین ہیں۔"

شہزادہ ترکی جو کبھی امریکہ اور برطانیہ میں سعودی مملکت کے اعلیٰ سفارت کار کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں، نے کہا: "عسکری طور پر تمام مقبوضہ لوگوں کو اپنے قبضے کے خلاف مزاحمت کرنے کا حق ہے - حتیٰ کہ عسکری طور پر بھی۔"

لیکن شہزادہ ترکی فلسطینیوں کے لیے ایک مختلف نقطۂ نظر کو زیادہ بارآور سمجھتے ہیں۔

"میں دوسرے آپشن کو ترجیح دیتا ہوں: شہری بغاوت اور نافرمانی۔ اس نے ہندوستان میں برطانوی سلطنت اور مشرقی یورپ میں سوویت سلطنت کا خاتمہ کر دیا۔"

دس روز قبل حماس کے کارندے غزہ کی سرحد عبور کر کے اسرائیلی بستیوں میں داخل ہو گئے اور فوجیوں اور شہریوں سمیت ایک ہزار سے زائد اسرائیلیوں کو ہلاک کر دیا۔

اسرائیل نے حماس کا صفایا کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے اور اس کے بعد سے غزہ پر بموں کی بارش کر دی ہے جس میں 3000 سے زیادہ شہری ہلاک ہو چکے ہیں۔ ان میں منگل کو ایک ہسپتال پر حملہ بھی شامل ہے جس میں 500 سے زیادہ افراد ہلاک ہو گئے۔

لیکن شہزادہ ترکی نے کہا کہ دو غلطیاں مل کر صحیح نہیں بن جاتیں اور تنازعہ کے دونوں فریق مذمت کے مستحق ہیں۔

شہزادہ ترکی نے کہا کہ حماس نے ایک غیر مقبول اسرائیلی حکومت کو اعلیٰ اخلاقی بنیاد تحفے میں دی جسے نصف اسرائیلی عوام بھی "فسطائی، شرپسند اور نفرت انگیز" خیال کرتے ہیں۔

"اسرائیل کو زبردست فوجی برتری حاصل ہے اور ہم اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھ رہے ہیں جو تباہی اور معدومیت وہ غزہ کے لوگوں کے لیے لا رہا ہے۔"

انہوں نے مغربی کنارے میں ہدفی قتل اور فلسطینی بچوں، خواتین اور مردوں کی اندھا دھند گرفتاری پر اسرائیل کی مذمت کی۔

شہزادہ ترکی نے فلسطینی عوام کی جدوجہد سے متعلق واقعات کی موجودہ صورتِ حال کو بھی اٹھایا۔

"میں امریکی میڈیا میں بار بار ایک جملہ سن رہا ہوں: بلا اشتعال حملہ۔ اسرائیل نے تین چوتھائی صدی سے فلسطینی عوام کے ساتھ جو کیا ہے، کیا اس سے بڑھ کر کسی اشتعال انگیزی کی ضرورت ہے۔"

"میں آپ کو 17 فروری 2014 کے مڈل ایسٹ مانیٹر کے ایک مضمون کا حوالہ دیتا ہوں جس کا عنوان تھا: 'اسرائیلی فوج کے سابق فوجیوں نے 1948 میں فلسطینیوں کے قتل عام میں کردار کا اعتراف کیا' - اسے پڑھیں اور میری طرح روئیں۔"

انہوں نے کہا کہ مئی اور جولائی کے درمیان اسرائیل نے 67 بچوں سمیت 450 فلسطینیوں کو قتل کیا ہے۔

"یہ خون ریزی بند ہونی چاہیے۔"

شہزادہ ترکی نے تنازع کے دوران فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کے اقدامات پر مختلف ردَعمل کا بھی ذکر کیا۔

"میں مغربی سیاست دانوں کی مذمت کرتا ہوں کہ جو اسرائیلیوں کی فلسطینیوں کے ہاتھوں ہلاکت پر آنسو بہاتے ہیں لیکن جب اسرائیلی فلسطینیوں کو مارتے ہیں تو اظہارِ افسوس کرنے سے بھی انکار کر دیتے ہیں۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں