مسلم ممالک اسرائیل کے خلاف عملی اقدامات کریں، تیل سمیت دیگر پابندیاں لگائیں: ایران

اسرائیل سفیروں کو بھی اپنے ملکوں سے نکالنے کا بھی مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ایران کے وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان نے اسلامی ملکوں کی تنظیم سے اسرائیل کے خلاف سخت پابندیاں لگانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیلی سفیر جن اسلامی ملکوں میں موجود ہیں انہیں واپس بھیج دیا جائے۔

وزیر خارجہ ایران نے یہ مطالبہ بدھ کے روز کیا ہے۔ اسرائیل کی مسلسل بمباری سے غزہ میں پیدا شدہ صورت حال کے پیش نظر او آئی سی کا ہنگامی اجلاس سعودی شہر جدہ میں منعقد ہو رہا ہے۔

غزہ کے ہسپتال میں منگل کو رات گئے اسرائیل کی بمباری نے معاملے کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ ہسپتال پر بمباری کے نتیجے میں پانچ سو سے زائد فلسطینی زخمی، مریض ، ڈاکٹر اور طبی عملے کے افراد کے علاوہ زخمیوں کے تیمار دار شہید ہو گئے ہیں۔

ایران نے اس انتہائی صورت حال کے پیش نظر او آئی سی کو اسرائیل کے خلاف عملی اقدامات کے لیے متوجہ کیا ہے۔ انہوں نے اسرائیل پر مکمل پابندیوں بشمول تیل کی پابندیوں کا مطالبہ کیا۔ نیز جن اسلامی ممالک نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کر رکھے ہیں انہیں اسرائیل سفیروں کو واپس بھیجنے کے لیے کہا ہے۔

واضح رہے ایران نے اسرائیل کو تسلیم کیا ہے نہ اس کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے ہیں۔ جبکہ کئی عرب ملک تسلیم کر چکے ہیں اور کئی اس بارے میں مذاکراتی عمل شروع کر چکے ہیں۔

حسین امیر عبداللہیان نے اسرائیل کے جنگی جرائم کے خلاف بین الاقوامی عدالت سے رجوع کرنے کے لیے مسلم ملکوں کے وکلا کی ایک مشترکہ ٹیم کی تشکیل کی جانب بھی متوجہ کیا۔

اسرائیل کی سات اکتوبر سے جاری بمباری کے نتیجے میں اب تک 3000 سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔ اسرائیل کی مسلسل عام شہریوں، سکولوں، مساجد اور ہسپتالوں پر بمباری جنیوا کنونشن سمیت بین الاقوامی قوانین اور انسانیت کے خلاف سنگین جرائم کے زمرے میں آتا ہے۔

غزہ کی مسلسل ناکہ بندی بھی بنیادی انسانی حقوق اور بین لاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ اس پر مسلم ممالک مسلسل بیانات دے رہے ہیں مگر اسرائیل کو ان کے بیانات کی پروا نہیں رہی ہے۔ اسی سبب ایران نے مسلم ممالک کو بیانات سے آگے بڑھ کر اسرائیل کے خلاف عملی اقدامات کی طرف متوجہ کیا ہے

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں