یرغمالیوں کی رہائی تک امدادی سامان غزہ میں داخل نہ ہوگا: اسرائیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیل کی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ زاچی ہنیگبی نے کہا ہے کہ غزہ میں زیر حراست قیدیوں کا معاملہ اسرائیل کی اولین ترجیح ہے۔ انسانی امداد کے حوالے سے بات چیت میں بھی یہ معاملہ شامل ہے۔

ایک پریس بریفنگ میں ہنیگبی نے منگل کو کہا کہ قیدیوں کا مسئلہ انسانی امداد کے بارے میں ہر بحث کا ایک لازمی حصہ ہے۔ انہوں نے یرغمالیوں کی رہائی کے لیے کسی بات چیت یا مذاکرات کے وجود کی تصدیق یا تردید نہیں کی۔

انہوں نے مزید کہا کہ حماس غزہ کے باشندوں کو جنوب سے نکلنے سے روکنے کی کوشش کر رہی ہے کیونکہ وہ انہیں انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرنا چاہتی ہے۔

اسرائیلی سکیورٹی عہدیدار نے امریکی صدر بائیڈن کا شکریہ ادا کیا کہ وہ مشکل وقت میں ہمارے ساتھ ہیں اور متوقع طور پر اسرائیل کا دورہ کر رہے ہیں۔ امریکہ نے مسلسل یقین دہانی بھی کرائی ہے کہ وہ اسرائیل کو تمام مطلوبہ امداد بھی فراہم کرے گا۔

ہنیگبی نے متنبہ کیا کہ اسرائیلی فوج حماس کے ہر اس رکن کو ہلاک کر دے گی جس نے سات اکتوبر کو جنوبی اسرائیل میں ہونے والے حملے میں حصہ لیا تھا۔

امدادی کارکنوں کے اعلان کے مطابق مصر کے علاقے شمالی سینا گورنری کے دارالحکومت العریش میں تعینات انسانی امداد کے قافلے منگل کو غزہ کی جانب رفح کراسنگ کی طرف روانہ ہوئے ہیں۔

کئی ملکوں اور بین الاقوامی تنظیموں سے انسانی امداد کی ترسیل ہوائی جہاز سے سینا پہنچی ہے۔ مصر نے درجنوں ٹرک غزہ کی جانب بھیج دئیے ہیں۔ ایک طرف واشنگٹن مصر سے امریکیوں کو غزہ چھوڑنے کی اجازت دینے کا مطالبہ کر رہا ہے تو دوسری طرف مصر نے جواب دیا ہے کہ جب تک امداد داخل نہیں ہوتی کسی کو غزہ چھوڑ کر نکلنے نہیں دیا جائے گا۔

دریں اثنا ایک سینئر امریکی عہدیدار نے بتایا کہ بلنکن نے ایک ایسے وقت میں منصوبہ تیار کرنے کے لیے شدید دباؤ ڈالا جب گزشتہ دنوں چھ عرب ملکوں کے سربراہان نے امریکی سفارت کار سے ملاقات کی اور باور کرایا کہ غزہ کو امداد پہنچانا اولین ترجیح ہونی چاہیے۔

واضح رہے جنگ کو گیارہ دن مکمل ہوگئے ہیں ۔ حماس نے 200 کے قریب افراد کو یرغمال بنایا ہے جن میں کچھ غیر ملکی بھی شامل ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں