اسرائیلی حملے میں جاں بحق مشہور معلمہ ڈاکٹر جمیلہ الشنطی کون ہیں؟

حماس کے سیاسی شعبے کے منتخب رکن، فلسطینی قانون ساز کونسل کی رکن تھیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب اسرائیلی فوج کے غزہ کی پٹی پر حملے میں مارے جانے والے فلسطینیوں میں ایک سرکردہ فلسطینی خاتون سیاست دان جمیلہ الشنطی بھی شہید ہوگئیں۔

آج جمعرات کو فلسطین کے علاقے غزہ کی پٹی پر فلسطینی قانون سازکونسل نے جمیلہ الشنطی کی شہادت پر سوگ کا اعلان کیا ہے۔

الشنطی "حماس" کے سیاسی بیورو کی رکن تھیں۔ وہ اس عہدے پر فائز ہونے والی پہلی فلسطینی خاتون تھیں۔

الشنطی 1957ء میں جبالیا کیمپ میں پیدا ہوئیں اور 1980 میں انہوں نے مصر کی عین شمس یونیورسٹی سے انگریزی میں بیچلر کی ڈگری حاصل کی۔

الشنطی نے 10 سال تک سعودی عرب میں بطور استانی خدمات انجام دیں۔سنہ 1990ء میں وہ غزہ واپس آئیں اور حماس کے تنظیمی ڈھانچے میں شامل ہو گئیں۔

جمیلہ الشنطی نےغزہ میں درس تدریس کا سلسلہ جاری رکھا۔ سنہ 1998ء میں انہوں نے اسلامی یونیورسٹی سے ایجوکیشن میں ماسٹر ڈگری حاصل کی۔ سنہ 2013 میں دبئی کی امارات یونیورسٹی کے "فرحہ" کالج آف فیملی سائنسز سے "فاصلاتی تعلیم" ٹیکنالوجی کے ذریعے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔

انہوں نے کئی سال تک حماس کے حقوق نسواں کے شعبے کی سربراہی کی۔ سنہ 2006ء میں انہوں نے حماس کے پارلیمانی بلاک ’اصلاح و تبدیلی ‘ کے فورم سے قانون ساز کونسل کے انتخابات میں حصہ لیا اور بھاری اکثریت سے فلسطینی قانون ساز کونسل کی رکن منتخب ہوگئیں۔

خواتین کی ریلی کی قیادت

3 نومبر 2006ء کو ڈاکٹر جمیلہ الشنطی نے شمالی غزہ کی پٹی کے قصبے بیت حانون کی ایک مسجد پر اسرائیلی فوج کی طرف سے مسلط کردہ محاصرہ توڑنے کے لیے خواتین کے مارچ کی قیادت کی، جس میں درجنوں مزاحمتی جنگجو شامل تھے۔

تین دن بعد اس کے گھر پر اسرائیلی طیاروں نے بمباری کی، جس کے نتیجے میں اس کی بھابھی کے علاوہ گھر کے قریب موجود دو دیگر افراد بھی مارے گئے، جب کہ وہ گھر کے اندر نہ ہونے کی وجہ سے بچ گئی۔

سنہ2013ء الشنطی کو غزہ میں حکومت میں وزیر برائے امور نسواں مقرر کیا گیا تھا۔

سنہ 2021 میں جمیلہ الشنطی اسلامی مزاحمتی تحریک "حماس" کے سیاسی بیورو کی رکن بننے والی پہلی خاتون کے طور پر منتخب کیا گیا۔

حماس کے سیاسی دفتر میں پہلی خاتون

اسرائیل کی غزہ پر حالیہ بمباری کے نتیجے میں حماس کےسیاسی شعبے کے دو ارکان زکریا ابو معمر اور جواد ابو شمالہ بھی مارے جا چکےہیں۔

64 سالہ جمیلہ الشنطی کو "مس ام عبداللہ" کے عرفی نام سے جانا جاتا تھا۔ وہ حماس کے حلقہ قرآن میں دینی تعلیم کی درس وتدریس میں بھی پیش پیش رہیں۔ انہیں باقاعدہ انتخابی عمل میں حماس کے سیاسی شعبے کی رکن منتخب کیا گیا تھا۔

جمیلہ النشطی
جمیلہ النشطی

گذشتہ ہفتے حماس نے اعلان کیا تھا کہ اس نے غزہ کی پٹی میں داخلی انتخابات ختم کر دیے ہیں جو 19 فروری کو شروع ہوئے تھے۔ ان میں یحییٰ السنوار کو دوبارہ غزہ میں حماس کا سربراہ منتخب کیا گیا تھا

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں