اسرائیل کے حامی تونسی ٹینس اسٹار کی فلسطینیوں کی حمایت کوٹھنڈے پیٹوں برداشت نہ کرسکے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

تونس کی ایک خاتون ٹینس اسٹار کی طرف سے فلسطینیوں کی حمایت پر اسرائیلی ریاست کے حامیوں کی طرف سے سخت غم وغصے کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

تونس اسٹار انس جابر نے اپنےانسٹا گرام پر "تشدد بند کرو اور فلسطین کو آزاد کرو‘‘ کے الفاظ پوسٹ کرنے پر انہیں جہاں عرب اور مسلمان صارفین کی طرف سے سراہا جا رہا ہے وہیں اسرائیل کے حامی حلقوں کی طرف سے انہیں سخت طنز اور تنقید کا سامنا ہے۔

انس جابر ان عرب کھلاڑیوں میں شامل ہوگئی ہیں جنہوں نے سوشل میڈیا کے ذریعے فلسطینیوں کی حمایت اور اسرائیلی حملوں کی مذمت کی ہے۔

اسرائیلی ٹینس فیڈریشن کی طرف سے تونسی ٹینس اسٹار پر کڑی تنقید کی گئی ہے جس میں بین الاقوامی ٹینس فیڈریشن اور خواتین کی ایسوسی ایشن آف پروفیشنلز ایسوسی ایشن سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ تونسی چیمپئن کو فلسطینی عوام کی حمایت پر سزا دے۔ اسرائیلی ٹینس فیڈریشن نے انس جابر کے موقف کو ایک قاتل اور نازی دہشت گرد تنظیم کی حمایت اور اسرائیل کے خلاف نفرت پر اکسانے کےمترادف قراردیا ہے‘‘۔

"مکمل حمایت"

دوسری طرف تونس کی کھیلوں اور امور نوجوانان کی وزارت نے ایک بیان میں انس جابر کے موقف کی مطلق حمایت کی ہے۔

وزارت نے بیان میں قابض افواج کے حالیہ حملوں کے بعد فلسطینی کاز کی حمایت کرنے والے تونسی کھلاڑیوں کی مکمل اور غیر مشروط حمایت پر زور دیا۔

قابل ذکر ہے کہ جرمن ٹیم یونین برلن اور تونس کی قومی فٹ بال ٹیم کے مڈفیلڈر کے طور پر کھیلنے والے تیونس کے پیشہ ور فٹ بال کھلاڑی عیسیٰ العیدونی کو فلسطین کے ساتھ اظہار یکجہتی کی وجہ سے ایک بڑے حملے کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں