فلسطینیوں کی آن لائن حمایت کرنے پر مسلمان فٹبالرز کو معطلی، تنقید کا سامنا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

کئی فٹ بال کھلاڑی اسرائیل اور حماس کے درمیان جاری جنگ پر بات کرنے پر تنقید کی زد میں آ چکے ہیں جن میں سے بعض کو معطلی کا سامنا ہے اور دیگر کو تنازعہ کے حوالے سے سوشل میڈیا پوسٹس پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

ڈچ فٹبالر انور ال غازی کو 17 اکتوبر کو ان کے جرمن کلب مینز 05 نے جنگ کے بارے میں ایک سوشل میڈیا پوسٹ پر معطل کر دیا جسے بنڈس لیگا کلب نے "ناقابلِ قبول" کہا تھا۔

مینز نے منگل کو ایکس (سابقہ ٹویٹر) پر پوسٹ کیے گئے ایک بیان میں کہا۔ "ال غازی نے شرقِ اوسط میں جاری تنازعہ پر ایک ایسا مؤقف اختیار کیا جسے کلب کی طرف سے ناقابل قبول سمجھا گیا تھا۔"

"مینز 05 اس حقیقت کا [احترام کرتا ہے] کہ شرقِ اوسط میں کئی عشروں سے جاری پیچیدہ تنازعات پر مختلف نقطہ ہائے نظر ہیں۔ تاہم کلب زیرِ بحث سوشل میڈیا پوسٹ کے مواد سے [خود کو] دور کر رہا ہے کیونکہ یہ کلب کی اقدار کے مطابق نہیں ہے۔"

کلب نے کہا کہ بین الاقوامی ڈچ کھلاڑی ال غازی نے اتوار کی شام ایک "اس وقت سے حذف شدہ" سوشل میڈیا پوسٹ میں یہ تبصرے کیے اور مزید کہا کہ "یہ فیصلہ کرنے سے پہلے کلب اور کھلاڑی نے گہرائی سے بحث کی تھی۔"

کلب نے اس بارے میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں کہ الغازی نے حذف شدہ پوسٹ میں کیا کہا تھا۔

فرانس نے یوسف اتل کو تا حکمِ ثانی معطل کر دیا

فرانس کے نائس فٹ بال کلب نے الجزائر کے فٹبالر یوسف اتل کو حماس-اسرائیل تنازعہ سے متعلق سوشل میڈیا پر پوسٹ کرنے پر معطل کر دیا ہے جسے وہ یہود دشمنی پر مبنی پیغام سمجھتا ہے۔

فرانسیسی استغاثہ نے مقامی سیاست دانوں کی طرف سے دائر کردہ شکایات کے بعد "دہشت گردی کو تعظیم دینے" کے شبہے میں فٹبالر سے تفتیش شروع کی تو اس کے دو دن بعد اتل کو معطلی مبینہ طور پر معطل کر دیا گیا۔

کلب نے بدھ کو ایک بیان میں کہا، "پوسٹ کیے گئے پیغام کی نوعیت اور اس کی سنجیدگی کے پیشِ نظر کلب نے کھلاڑی کے خلاف پہلی تادیبی پابندیاں فوری طور پر لگانے کا فیصلہ کیا، اس سے پہلے کہ ان کا فیصلہ کھیل اور عدالتی حکام کر سکیں۔ اس طرح کلب نے تا حکمِ ثانی یوسف اتل کو معطل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔"

مبینہ طور پر یہودی لوگوں کے خلاف تشدد کا مطالبہ کرنے والے ایک فلسطینی مبلغ کی ویڈیو انسٹاگرام پر پوسٹ کرنے پر اتل کو ہفتے کے روز سے مبینہ طور پر وسیع پیمانے پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔

کلب نے کہا کہ فٹبالر نے تب سے پوسٹ کو حذف کر دیا ہے اور عوامی اور تحریری معافی نامہ جاری کر دیا ہے۔

بینزیما کو غزہ کے لیے اظہارِ یکجہتی پر ردِعمل کا سامنا

فرانسیسی فٹ بال اسٹار کریم بینزیما جو اب سعودی کلب الاتحاد کے لیے کھیلتے ہیں، کو بھی ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں غزہ کے لوگوں کی حمایت کے اظہار کے بعد شدید ردِعمل کا سامنا ہے۔

بینزیما نے اتوار کے روز ایکس پر لکھا: "ہماری تمام دعائیں غزہ کے باشندوں کے لیے جو ایک بار پھر ان غیر منصفانہ بمباری کا شکار ہیں جن میں خواتین یا بچوں کو بھی نہیں بخشا جاتا۔"

متعدد میڈیا رپورٹس کے مطابق فرانس کے وزیرِ داخلہ جیرالڈ درمانین کی جانب سے بینزیما پر اخوان المسلمون سے روابط ہونے کا الزام عائد کرنے کے بعد تنقید میں مزید اضافہ ہوا۔ اسے فرانس ایک دہشت گرد تنظیم سمجھتا ہے۔

کریم بینزیما نے عہدیداران انمار بن عبداللہ الہیلی + احمد عصام کاکی کے ساتھ التحاد کلب کے لیے معاہدہ کیا۔ (فراہم کردہ)
کریم بینزیما نے عہدیداران انمار بن عبداللہ الہیلی + احمد عصام کاکی کے ساتھ التحاد کلب کے لیے معاہدہ کیا۔ (فراہم کردہ)

سی نیوز ٹی وی چینل کے ساتھ ایک نشرکردہ انٹرویو میں درمانین نے کہا: "ہم نے 1,100 اسلام پرست اداروں کو بند کر دیا ہے۔ اور حالیہ ہفتوں میں میں نے بالخصوص دلچسپی لی ہے، ہم سب جانتے ہیں کہ مسٹر بینزیما کا تعلق بدنامِ زمانہ اخوان المسلمون سے ہے۔"

درمانین کے تبصروں کے بعد فرانسیسی سینیٹر ویلری بوئیر نے مطالبہ کیا کہ 2022 کے بیلن ڈی اور فاتح سے ان کی فرانسیسی شہریت اور بیلن ڈی اور ٹائٹل چھین لیا جائے – جو سال کے بہترین فٹ بال کھلاڑی کو دیا جانے والا سالانہ ایوارڈ ہے۔

بوئیر نے بدھ کے روز ایکس پر پوسٹ کیا۔ "اگر کریم بینزیما کا تعلق اخوان المسلمون سے ہے تو ہمیں کم از کم ان سے بیلن ڈی اور (علامتی پابندی) واپس لے لینی چاہیے بلکہ اس کے علاوہ اس کی فرانسیسی شہریت بھی۔ ان لوگوں کے ساتھ معاہدہ کرنا جو ہمارے خلاف اعلانِ جنگ کرتے ہیں ملک سے غداری کے مترادف ہو گا۔"

شائقین کی دوہرے معیار پر تنقید

دریں اثناء فٹ بال کے شائقین لندن کے کلب ٹوٹنہم ہاٹسپور سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ اپنے اسرائیلی ونگر منور سلیمان کے خلاف تنازعہ پر پوسٹ کرنے پر کارروائی کرے۔

اسرائیل کی جانب سے غزہ میں الاہلی بیپٹسٹ ہسپتال پر بمباری جس میں کم از کم 500 افراد ہلاک ہوئے، کے چند گھنٹے بعد سلیمان نے اپنی انسٹاگرام اسٹوری پر فلسطینیوں پر "اپنے ہی لوگوں کو مارنے اور اسرائیل کو الزام دینے" کا الزام لگاتے ہوئے پوسٹ کی۔

شائقین فٹ بال کلبوں کے بعض کھلاڑیوں کے ساتھ منتخب رویے پر سوال اٹھا رہے ہیں جبکہ ان کا مؤقف سیاست کو کھیل سے دور رکھنے کا ہے۔

ایکس پر ایک صارف جس کی شناخت حیسین ایمش کے نام سے ہوئی ہے، نے لکھا۔ "کیا ٹوٹنہم ایف سی منور سلیمان کو اس پوسٹ کے بعد معطل کر سکتا ہے جیسا کہ نائس اور مینز نے یوسف اور انور الغازی کو کیا ہے۔"

کلب نے تاحال سلیمان کی پوسٹس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں