مصر کے السیسی 'غزہ پر اسرائیلی جارحیت' پر تبادلۂ خیال کے لیے اردن کے بادشاہ کے میزبان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

مصری ایوانِ صدر نے کہا کہ ہمسایہ غزہ کی پٹی میں تشدد کے واقعات کے بعد مصری صدر عبدالفتاح السیسی جمعرات کو قاہرہ میں ایک سربراہی اجلاس کے لیے اردن کے شاہ عبداللہ دوم کی میزبانی کریں گے۔

اردن کی شاہی عدالت نے ایک بیان میں کہا کہ دونوں رہنما "غزہ پر اسرائیلی جارحیت کو روکنے کے طریقوں پر تبادلۂ خیال" کریں گے۔

اسرائیل غزہ پر فضائی اور توپ خانے سے حملے کر رہا ہے جب سے حماس کے مسلح افراد نے 7 اکتوبر کو جنوبی اسرائیل میں کمیونٹیز پر بڑے پیمانے پر حملہ کیا ہے جس میں اسرائیلی حکام کے مطابق 1,400 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے جو زیادہ تر عام شہری تھے۔

حماس کے زیرِ انتظام وزارتِ صحت کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حملوں میں محصور فلسطینی انکلیو میں 3,478 افراد ہلاک ہوئے ہیں جن میں زیادہ تر عام شہری ہیں۔

السیسی اور شاہ عبداللہ کی اس ہفتے اردن میں امریکی صدر جو بائیڈن اور فلسطینی صدر محمود عباس سے بات چیت طے شدہ تھی لیکن اردن نے ال اہلی عرب ہسپتال پر مہلک حملے کے بعد یہ ملاقات منسوخ کر دی۔

حماس کے زیرِ اقتدار غزہ میں صحت کے حکام نے بتایا کہ دھماکے سے ہسپتال میں 471 افراد ہلاک ہوئے اور یہ اسرائیلی فضائی حملے کی وجہ سے ہوا۔

اسرائیل نے اس کی ذمہ داری لینے سے انکار کر دیا ہے اور اس کا الزام عسکریت پسندوں کے ایک ناقص راکٹ پر لگایا ہے۔

دونوں راہنماؤں کی ملاقات اسی دن ہو رہی ہے جب قاہرہ میں اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹیرس کی آمد متوقع ہیں۔

وزارتِ خارجہ کے مطابق جمعرات کو قاہرہ میں برطانیہ کے وزیرِ خارجہ جیمز کلیورلی کے ساتھ ملاقات میں مصری وزیرِ خارجہ سامح شکری نے "غزہ کے لوگوں کو انسانی اور ہنگامی امداد پہنچانے کی ترجیح" پر تبادلۂ خیال کیا۔

السیسی کے دفتر نے جمعرات کو بتایا کہ انہوں نے امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ مائیکل کریلا کے ساتھ "غزہ کی صورتحال" پر بھی تبادلۂ خیال کیا۔

مصر اور اردن پہلی عرب ریاستیں تھیں جو بالترتیب 1979 اور 1994 میں اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لائیں اور اس کے بعد سے اسرائیلی اور فلسطینی حکام کے درمیان کلیدی ثالث کا کردار ادا کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں