مغربی کنارے میں اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے تین فلسطینی ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

فلسطین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی وافا نے بتایا کہ جمعرات کو علی الصبح مقبوضہ مغربی کنارے میں دو مختلف واقعات میں اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے دو نوجوانوں سمیت تین فلسطینی ہلاک ہو گئے۔

وافا نے کہا کہ اسرائیلی فورسز نے رام اللہ کے مغرب میں واقع گاؤں بدرس پر یلغار کر دی اور ایک نوجوان جبریل عواد کو گولی مار کر ہلاک اور ایک کو زخمی کر دیا۔

خبر رساں ایجنسی نے مزید کہا کہ دیگر واقعات میں بیت لحم کے جنوب میں واقع مہاجر کیمپ میں ایک 14 سالہ نوجوان سر میں گولی لگنے سے ہلاک ہو گیا اور ایک 16 سالہ نوجوان طولکرم قصبے میں گولی لگنے سے زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا۔

اسرائیل کی جانب سے فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔

اسرائیلی فلسطینی تشدد میں تازہ ترین شدت میں مغربی کنارے میں درجنوں فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں۔

7 اکتوبر کو فلسطینی عسکریت پسند گروپ حماس کے ایک مہلک حملے کے جواب میں اسرائیل غزہ کی پٹی میں زمینی حملے کی تیاری کر رہا ہے۔ حماس کے حملے میں کم از کم 1,400 اسرائیلی ہلاک ہوئے جن میں زیادہ تر عام شہری تھے۔

اسرائیلی افواج نے جواب میں غزہ پر اپنی شدید ترین بمباری کی ہے جس کے نتیجے میں 3000 سے زائد فلسطینی ہلاک ہو گئے ہیں اور حماس کے زیرِ قبضہ علاقے کا مکمل محاصرہ کر لیا ہے جس سے مغربی کنارے میں فلسطینیوں میں غصے کی آگ بھڑک رہی ہے۔

مغربی کنارہ فلسطینی اتھارٹی کا گھر ہے جس پر حماس کے حریف الفتح اور 87 سالہ فلسطینی صدر محمود عباس کا غلبہ ہے۔

اس کی سرحد یروشلم سے ملتی ہے جہاں مسلمانوں، عیسائیوں اور یہودیوں کے لیے مقدس مقامات ہیں اور یہ باہمی تشدد کے لیے ایک نقطۂ اشتعال ہے۔ حماس نے 7 اکتوبر کو یروشلم کے قدیم شہر میں مسجد اقصیٰ میں مسلمان نمازیوں پر اسرائیلی حملوں کے انتقام کے طور پر اپنے حملے کا اعلان کیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں