مشرق وسطیٰ

اسرائیلی فوج کا غزہ جنگ کے 3 مراحل کا اعلان، بیشتر قیدیوں کے زندہ ہونے کا دعویٰ

غزہ میں اسرائیلی آپریشن کا مقصد حماس کا وجود ختم کرنا اور علاقے میں نئے سکیورٹی نظام کا نفاذ ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اسرائیلی فوج نے جمعے کے روز اعلان کیا ہے کہ حماس کی طرف سے 7 اکتوبر کو ہونے والے حملے کے دوران حراست میں لیے گئے قیدیوں کی اکثریت زندہ ہے۔

ایک فوجی ترجمان نے ایک بیان میں کہا کہ "یرغمالیوں میں سے زیادہ تر زندہ ہیں۔ وہاں لاشیں بھی ہیں جنہیں غزہ کی پٹی لے جایا گیا تھا"۔

ترجمان نے وضاحت کی کہ "غزہ کی پٹی میں اس وقت لگ بھگ 200 یرغمالیوں میں سے 20 سے زیادہ نابالغ (18 سال سے کم عمر) اور 10 سے 20 یرغمالیوں کی عمریں 60 سال سے زیادہ ہیں"۔

فوج کے مطابق 7 اکتوبر سے جب حماس نے اسرائیل کے ساتھ سرحدی قصبوں پر اچانک حملہ کیا تھا تب سے 100 سے 200 کے درمیان افراد لاپتہ تصور کیے جاتے ہیں۔ اس حملے کے جواب میں اسرائیل نے غزہ کی پٹی پر شدید بمباری شروع کر رکھی ہے۔

اسرائیلی حکام کے مطابق 1400 سے زیادہ لوگ اسرائیل کی جانب سے مارے گئے، جن میں سے زیادہ تر حماس کے حملے کے دن مارےگئے تھے۔

اسرائیلی فوج کا کہنا تھا کہ جوابی حملے میں حماس کے تقریباً 1500 جنگجو مارے گئے جس کی وجہ سے اسرائیل نے حملہ کیے گئے علاقوں پر دوبارہ کنٹرول حاصل کر لیا۔

فلسطینی وزارت صحت کے مطابق غزہ کی پٹی میں 4 ہزار 137 افراد جاں بحق ہوئے جن میں 1500 سے زائد بچے بھی شامل ہیں جب کہ زخمیوں کی تعداد 13 ہزار سے تجاوز کر گئی۔

غزہ میں جنگ کے تین مراحل

جمعہ کو اسرائیلی اخبار ’ٹائمز آف اسرائیل‘ نے وزیر دفاع یوآو گیلنٹ کے حوالے سے بتایا کہ غزہ کی پٹی میں جنگ تین مرحلوں پر مشتمل ہے، جس کا آغاز حماس کی تباہی سے اور اختتام غزہ میں ایک نئے سکیورٹی نظام کے قیام پر ہوگا۔ تاکہ اسرائیل پر غزہ کی پٹی کا روز مرہ کا بوجھ ختم ہوجائے۔

گیلنٹ نے کہا کہ اسرائیل ایک فوجی مہم کے ذریعے حماس کو مکمل طور پر ختم کرنا چاہتا ہے جس کا مقصد تحریک اور اس کے بنیادی ڈھانچے کو تباہ کرنا ہے۔

اسرائیلی وزیر نے مزید کہا کہ دوسرا مرحلہ لڑائی جاری رکھنا ہو گا، لیکن کم شدت کے ساتھ تاکہ ہر طرح کی مزاحمت کو کچل دیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ تیسرا مرحلہ غزہ میں ایک نئے سکیورٹی نظام کا قیام ہوگا، جس سے اسرائیل کو غزہ کی پٹی میں روزمرہ کی زندگی کی ذمہ داری سے چھٹکارا مل جائے گا۔ غزہ سے متصل علاقوں میں اسرائیل کے شہریوں اور وہاں کے باشندوں کے لیے ایک نئی سکیورٹی اسکیم تشکیل دی جائے گی۔

امداد کے داخلے کا انتظار

دوسری جانب مصر میں جمع ہونے والی امداد غزہ کی پٹی فوری پہنچانے کی کوششیں جاری ہیں۔ امدادی مشن اقوام متحدہ کی نگرانی میں ہو رہا ہے۔ یو این سیکرٹری جنرل نے کہا ہے کہ غزہ کی پٹی کو کل ہفتے کےروز امداد پہنچانے کا عمل شروع ہوجائے گا۔

تاہم ساتھ ہی ان کا کہنا تھا کہ غزہ کی پٹی کو امداد کی فراہمی کا عمل خطرات میں گھرا ہوا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں