حماس کے اعلیٰ ترین دماغ اسرائیل کے نشانے پر سرِفہرست

دوسری طرف حماس کے رہنما اسرائیل کے ارادوں یا قتل کی دھمکیوں سے خوفزدہ نہیں ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

اسرائیل نے دھمکی دی ہے کہ جب وہ غزہ پر حملہ کرے گا تو حماس کے ہر رکن کو موت کا سامنا کرنا ہو گا لیکن 7 اکتوبر کے حملوں کے دو ملزم منصوبہ ساز اس کے نشانے پر سرِفہرست ہیں۔

فوجی حکمت عملی ساز محمد ضیف اور سیاسی رہنما یحییٰ سنوار پہلے ہی اسرائیلی یا فلسطینی جیلوں میں وقت گزار چکے ہیں اور کئی بار قاتلانہ حملوں کا نشانہ بنے ہیں۔

محصور غزہ کی پٹی میں حماس کے دو سینئر ترین رہنماؤں کی تلاش اس دفعہ بہت غضبناک ہوگی۔

لفظی جنگ میں جو کہ عنقریب زمینی حملے کی طرف لے جا رہی ہے، اسرائیل نے کہا ہے کہ سنوار ایک "چلتا ہوا مردہ" ہے جبکہ حماس کے جنگجوؤں نے تقریباً 1400 افراد کو ہلاک اور 200 سے زیادہ کو اغوا کر لیا ہے۔ 75 سال قبل اسرائیل کے وجود میں آنے کے بعد سے یہ اب تک کا بدترین حملہ ہے۔

حماس کے زیرِانتظام وزارتِ صحت کے مطابق اسرائیل نے حماس کے حملوں کا جواب غزہ پر جانکاہ بمباری سے دیا ہے جس میں 3,700 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور ساتھ ہی وہ مہلک انتباہات بھی دیتا رہا ہے۔

وزیرِ دفاع یوو گیلنٹ نے کہا۔ "حماس کے دہشت گردوں کے پاس دو راستے ہیں: قتل ہو جائیں یا غیر مشروط طور پر ہتھیار ڈال دیں۔ کوئی تیسرا آپشن نہیں ہے۔"

حماس کے ترجمان نے جواب دیا ہے کہ فلسطینی اسلامی گروپ "خوفزدہ نہیں" ہے۔

غزہ سے باہر سکیورٹی ذرائع نے کہا ہے کہ ضیف اور سنوار اب سرنگوں کے اس نیٹ ورک میں سرایت کر گئے ہیں جو سرحد کے قریب کمیونٹیز اور فوجی اڈوں پر وحشیانہ حملوں کے بعد شروع کی گئی بمباری کی مہم کے خلاف مزاحمت کے لیے تعمیر کی گئی ہیں۔ اور اس نیٹ ورک نے اسرائیل کو اندر تک ہلا کر رکھ دیا ہے۔

لیکن اس جوڑے نے سائے کی شکل میں کام کرتے ہوئے برسوں گذارے ہیں۔

اسرائیل نے 61 سالہ سنوار کو منتخب کیا ہے جو 2017 میں اسماعیل ہنیہ کے حماس تحریک کا سپریم لیڈر بننے کے بعد غزہ میں حماس کے رہنما منتخب ہوئے تھے۔ فوجی ترجمان لیفٹیننٹ کرنل رچرڈ ہیچ نے سنوار کو "برائی کا چہرہ" کہا اور اسے "چلتا ہوا مردہ" قرار دیا۔

سنوار 1987 میں پہلی فلسطینی انتفاضہ یا بغاوت کے دوران حماس کے بانی رکن تھے اور مسلح جدوجہد کے پرجوش وکیل کے طور پر اعلیٰ مقام حاصل کیا۔

غزہ کی اسلامی یونیورسٹی سے فارغ التحصیل سنوار نے اسرائیلی جیلوں میں 23 سال قید کے دوران عبرانی زبان سیکھی۔

سنوار دو اسرائیلی فوجیوں کے قتل کے جرم میں عمر قید کی چار سزائیں کاٹ رہے تھے جب 2011 میں وہ فرانسیسی-اسرائیلی فوجی گیلاد شالیت کے بدلے رہا ہونے والے 1,100 فلسطینیوں میں سب سے سینئر بن گئے۔

سنوار اور ضیف دونوں غزہ کے خان یونس پناہ گزین کیمپ میں پیدا ہوئے تھے اور انہیں 2015 میں امریکہ کی انتہائی مطلوب "بین الاقوامی دہشت گردوں" کی فہرست میں شامل کیا گیا تھا۔

حماس کو یورپی یونین کے ساتھ ساتھ امریکہ نے بھی "دہشت گرد تنظیم" کے طور پر بلیک لسٹ کر رکھا ہے۔

ضیف کے بارے میں بہت کم معلومات ہیں جو اسرائیل کا گذشتہ دو عشروں سے نمبر ایک عوامی دشمن ہے اور اس دوران ان پر خودکش حملوں، اغوا اور دیگر چھاپوں کو منظم کرنے کا الزام لگایا جاتا رہا ہے۔

حماس کے عسکری ونگ عزالدین القسام بریگیڈز کے کمانڈر کی صرف ایک مکمل چہرے والی اور معلوم تصویر ہے۔ یہ تصویر کم از کم 20 سال پرانی ہے۔ دیگر تصاویر میں یا تو وہ ماسک میں ہے یا اپنی شناخت چھپانے کے لیے سائے میں کھڑے نظر آتے ہیں۔

حماس کے ذرائع ابلاغ نے حملوں کی صبح ضیف کی طرف سے ایک آڈیو پیغام نشر کیا تھا جسے آپریشن سیلاب الاقصیٰ کا نام دیا گیا تھا۔

انہوں نے کہا تھا ہمارے لوگوں اور ہماری قوم غصے سے پھٹ رہی ہے۔

ضیف محمد ضیاب المصری 1965 میں پیدا ہوئے۔

ان کے فرض شدہ نام کا عربی میں مطلب "مہمان" ہے اور مبینہ طور پر وہ ایک ہی جگہ ایک سے زیادہ رات نہیں گذارتے۔ دشمنوں نے اسے "نو جانوں والی بلی" کا نام دیا ہے کیونکہ وہ کم از کم چھ قاتلانہ حملوں میں بچ گئے ہیں۔

ضیف کی اہلیہ اور کم از کم ایک بچہ 2014 کی غزہ جنگ کے دوران اسرائیلی فضائی حملے میں ہلاک ہو گئے۔ ضیف کی مبینہ طور پر ایک آنکھ ضائع ہو گئی ہے اور ایک قاتلانہ حملے میں وہ معذور ہو گئے ہیں لیکن ان کا اثرورسوخ کمزور نہیں ہوا ہے۔

وہ 1980 کے عشرے سے حماس میں شامل ہیں اور دوسری انتفاضہ کے آغاز میں گرفتار ہوئے تھے لیکن 2000 میں فلسطینی اتھارٹی کی جیل سے فرار ہو گئے یا رہا کر دیئے گئے تھے۔ وہ 2002 میں حماس کے فوجی ونگ کے سربراہ بنے اور تب سے اسرائیل کے لیے ناپسندیدہ ترین شخص ہیں۔

اسرائیل نے 7 اکتوبر سے حماس کی قیادت کو بار بار انتباہات بھیجے ہیں۔

وزیرِاعظم بنجمن نیتن یاہو نے کہا حماس کا ہر رکن مردہ آدمی ہے۔

لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ سنوار اور ضیف کو ختم کرنے سے حماس بری طرح کمزور تو ہو جائے گی لیکن اسے کچلا نہیں جا سکے گا جو اسرائیل کا اعلان کردہ مقصد ہے۔

لندن میں رائل یونائیٹڈ سروسز انسٹی ٹیوٹ میں بین الاقوامی سیکورٹی ماہر ایچ اے ہیلیر نے کہا، "سنوار اور ضیف واضح طور پر پہلی ترجیحی قیادت ہیں جن کی موت سے حماس کو نقصان پہنچے گا لیکن ایک خیال ہے کہ گروپ کو اندازہ ہے کہ ان کے نقصان کی صورت میں کیا کرنا ہے۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں