حوثی ڈرون حملوں کی امریکہ نے تصدیق کر دی، ڈرون اور میزائل مار گرائے: پینٹاگون

ایک سول کنٹریکٹر' ڈرون اٹیک' کی وارننگ کے دوران ' ہارٹ اٹیک' سے ہلاک ہوا ۔

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

امریکی پینٹاگون نے اپنے فوجی اڈوں پر اور ممکنہ طور پر پر اسرائیل کی طرف سے پھینکے گئے ایرانی حمایت یافتہ گروپ حوثیوں کے ڈرون حملوں اور میزائل حملوں کی تصدیق کر دی ہے۔ اور یہ بھی کہا ہے کہ حوثیوں کے یہ ڈرونز مار گرائے ہیں۔ یہ حملے امریکی تصدیق کے مطابق بھی جمعرات کے روز کیے گئے۔

تاہم امریکی پینٹاگون نے اپنے کسی باقاعدہ فوجی کے ہلاک یا زخمی ہونے کی تصدیق نہیں کی ہے۔ البتہ ایک امریکی سول کنٹریکٹر کو دل کا دورہ پڑنے کی اطلاع دی ہے ۔ جو ڈرون حملے کے حوالے سے امریکی اڈے پر خطرے کی وارننگ کے وقت پناہ گاہ میں جانے کے دوران دل کے دورے کا نشانہ بنا اور ہلاک ہو گیا۔

پینٹاگون کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ امریکی بحریہ کے ایک جنگی جہاز نے چلائے گئے میزائل ڈرون گرا دیےہیں۔ پینٹاگون کے پریس سیکرٹری بریگیڈ جنرل پیٹ رائیڈا کا رپورٹرز سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا امریکی اڈے پر تین کروز میزائل اور متعدد ڈرونز کی مدد سے حملہ کیا گیا تھا ۔

حوثیوں نے یہ میزائل یمن سے چلائے تھے جو بحیرہ احمر کی طرف اسرائیل نشانہ کر رہے تھے۔

پینٹاگون کے بیان میں کہا گیا ہے امریکہ کا یو ایس ایس کارنے ڈسٹرائر شاملی بحیرہ احمر میں تھا۔ جب اس نے حوثیوں کے چلائے گئے میزائلوں اور ڈرونز کو مار گرانے کا فیصلہ کیا۔

دوسری جانب شام اور عراق میں بھی امریکی فوجی اڈے بھی پچھلے چوبیس گھنٹوں کے دوران ایسے ہی ڈرون حملوں کی زد میں آئے ہیں۔ پریس سیکرٹری پینٹاگون نے کہا 'امریکہ ابھی اس امر کا جائزہ لیتا رہے گا کہ مشرق وسطیٰ میں امریکی اڈوں پر کیے گئے ان حملوں کے پیچھے کون تھا۔

واضح طور پر یہ اسی طرح کی ڈرون حملوں کی سرگرمی ہے جس طرح کی ہم اس سے پہلے عراق اور شام میں دیکھ چکے ہیں۔ جس کا مطلب ہے کہ عراق میں ہماری عین الاسد ائیر بیس کے لیے خطرہ پیدا ہو رہا ہے۔

پینٹا گون نے یہ بھی وضاحت کی ہے کہ اس دوران ہونے والی ایک ہلاکت امریکی سول کنٹریکٹر کی ہے جو' ڈرون اٹیک' سے نہیں ' ہارٹ اٹیک ' سے ہلاک ہوا ہے۔ یہ ہلاکت اس وقت ہوئی جب ہمارے 'ارلی وارننگ سسٹم ' نے خطرے کا بتایا اور( فوجی) پناہ گاہوں کی طرف جارہے تھے۔ یہ واقعہ عین الاسد کی امریکی ائیر بیس پر پیش آیا ہے۔

خیال رہے حماس کے اسرائیل پر حالیہ حملوں کے بعد پینٹاگون کے سربراہ لائیڈ آسٹن نے دو طیارہ بردار بحری بیڑے مشرقی بحیرہ روم میں تعینات کر دیے تھے۔ آسٹن اور دوسرے امریکی حکام نے ایران، حزب اللہ اور دیگر ایرانی حمایت یافتہ گروپوں کو خبردار کیا ہے کہ اسرائیل کے خلاف کوئی دوسرا محاز کھولنے سے باز رہیں۔

جبکہ ایران کی قیادت اور فوجی حکام کی طرف سے بھی یہ متواتر کہا گیا ہے کہ اگر اسرائیل نے غزہ پر حملے جاری رہے تو مزاحمتی گروپ اور دوسرے فریق بھی اس تصادم میں شامل ہوسکتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں