'ایک اور قتلِ عام ہونے کا انتظار نہ کریں: غزہ کے ڈاکٹر کی التجا

ہسپتال میں مہلک حملے کے بعد عرب راہنماؤں اور امریکی صدر کے درمیان سربراہی کانفرنس منسوخ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

منگل کی شام ایک اسپتال کو نشانہ بنائے جانے کے بعد غزہ کے الشفاء اسپتال کے ایک ڈاکٹر نے بین الاقوامی برادری سے التجا کی ہے کہ وہ انکلیو میں معصوم شہریوں کی ہلاکت کو روکیں۔

سفید کمبلوں میں لپٹی ہوئی لاشوں کے ایک ڈھیر میں گھرے ہوئے ڈاکٹر محمد غونیم نے عرب نیوز کو بتایا، "یہ واقعی نسل کشی ہے بین الاقوامی انسانی قانون کے مطابق۔ ہسپتال کو ایک محفوظ جگہ سمجھا جاتا ہے۔ سمجھا جاتا ہے کہ یہ بے گھر لوگوں کے لیے ایک پناہ گاہ ہے۔"

انہوں نے کہا، "یہ تمام لاشیں جو ہسپتال میں آئیں جسم کے اعضاء کے طور پر آئیں، کٹے ہوئے اعضاء جن میں زندگی کی کوئی رمق باقی نہ تھی۔"

غونیم نے التجا کی: "ہمارے پاس ابھی صرف پانچ اہم ہسپتال کام کر رہے ہیں اور وہ آئندہ چند گھنٹوں میں سروس دینے سے قاصر ہو جائیں گے۔"

"اس وقت تک انتظار نہ کریں جب تک یہ ہسپتال سروس دینا بند کر دیں۔ ہم اس ہسپتال میں اب خود کو محفوظ محسوس نہیں کر رہے۔ ہم کسی بھی جگہ محفوظ محسوس نہیں کر رہے۔ برائے مہربانی یہ پاگل پن بند کریں۔ یہ نسل کشی بند کریں۔ اس انسانی بحران کو روکیں۔"

منگل کو غزہ کے الاہلی ہسپتال پر حملے میں سینکڑوں مریض اور عام شہری مارے گئے جنہیں ہسپتال میں پناہ لینے کے لیے کہا گیا تھا۔ اسرائیل اور امریکا فلسطینی مسلح گروپ اسلامی جہاد پر حملے کا الزام لگاتے ہیں جو کہ تنازع کے آغاز کے بعد سے سب سے بڑا واحد حملہ تھا۔

جیسے ہی بائیڈن تل ابیب پہنچے تو انہوں نے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کے ساتھ ایک پریس کانفرنس کی جس میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ ہسپتال پر حملہ ممکنہ طور پر اسرائیلی فوج کے فضائی حملے کی وجہ سے نہیں ہوا۔

بائیڈن نے اسلامی جہاد کا حوالہ دیتے ہوئے نیتن یاہو سے کہا، "میں نے جو کچھ دیکھا ہے اس کی بنیاد پر ایسا لگتا ہے کہ یہ آپ نے نہیں بلکہ دوسری ٹیم نے کیا ہے۔"

عالمی برادری نے اس حملے کی مذمت کی ہے اور امریکی صدر جو بائیڈن اور اردن، مصر اور فلسطینی اتھارٹی کے رہنماؤں کے درمیان عمان میں ہونے والی سربراہی کانفرنس اس قتلِ عام کے بعد منسوخ کر دی گئی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں