حماس حملے کامقصد سعودی-اسرائیل تعلقات کومعمول پرلانےمیں خلل پیدا کرنا تھا: امریکی صدر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکی صدر جو بائیڈن نے جمعہ کو کہا کہ فلسطینی عسکریت پسند گروپ حماس کا 7 اکتوبر کو اسرائیل پر حملہ جس میں تقریباً 1,400 افراد ہلاک ہوئے تھے، کا مقصد اسرائیل اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات کو ممکنہ طور پر معمول پر لانے میں خلل پیدا کرنا تھا۔

چندہ جمع کرنے کی ایک مہم کے موقع پر تبصرے میں بائیڈن نے تجویز پیش کی کہ سعودی عرب اسرائیل کو تسلیم کرنا چاہتا ہے۔

سعودی عرب کے خلیجی ہمسایہ ممالک متحدہ عرب امارات اور بحرین نے 2020 میں ڈونلڈ ٹرمپ کی سابقہ امریکی انتظامیہ کے تحت اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کیے تھے۔

ریاض نے یہ کہہ کر اس کی پیروی نہیں کی کہ فلسطینی ریاست کے اہداف کو پہلے حل کیا جانا چاہیے۔

بائیڈن نے کہا، "حماس کے اسرائیل کی طرف بڑھنے کی ایک وجہ یہ ہے کہ وہ جانتے تھے کہ میں سعودیوں کے ساتھ (مذاکرات کے لیے) بیٹھنے والا تھا۔"

"بوجھیں کیا؟ سعودی اسرائیل کو تسلیم کرنا چاہتے تھے۔"

سعودی عرب اور دیگر عرب ریاستوں کے ساتھ اسرائیل کے تعلقات کو ممکنہ طور پر معمول پر لانا جون میں دورۂ ریاض کے دوران سکریٹری آف اسٹیٹ انٹونی بلنکن کی اولین ترجیح تھی اگرچہ انہوں نے تسلیم کیا کہ فوری طور پر کسی پیش رفت کی توقع نہیں ہونی چاہیے تھی۔

بلنکن نے 8 اکتوبر کو سی این این کو بتایا، "یہ حیرت کی بات نہیں ہوگی کہ (حملے کے لیے) محرک کا ایک حصہ سعودی عرب اور اسرائیل کو قریب لانے کی کوششوں میں خلل پیدا کرنا تھا۔"

بائیڈن نے گذشتہ اتوار کو نشر ہونے والے ایک انٹرویو میں سی بی ایس کے 60 منٹس کو بتایا کہ تعلقات کے معمول پر آنے کا امکان "تاحال موجود ہے لیکن اس میں وقت لگے گا۔"

اسرائیل نے 7 اکتوبر کو ہونے والے حملے کا جواب غزہ پر فضائی حملے کر کے دیا جس میں 4000 سے زائد افراد ہلاک ہوئے اور کہا ہے کہ وہ حماس کا صفایا کرتے ہوئے گروپ کے عسکریت پسندوں کے ہاتھوں یرغمال بنائے گئے افراد کی رہائی کے لیے کارروائی کرے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں